انوارالعلوم (جلد 14) — Page 337
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) گی اور جو جواب اس کا آئے گا وہ میں آپ کو بتاؤں گی۔میں نے کہا۔پادری بھی اس کا مطلب کچھ نہیں بتا سکتا مگر خیر اُس نے ایک پادری کو خط لکھ دیا۔کوئی دو مہینے کے بعد اُس کا جواب آیا مگر وہ بھی اُس نے خود نہیں لکھا بلکہ اُس کی کسی سہیلی سے لکھوایا۔اور جواب یہ تھا کہ اگر سچ سچ تمہیں اسلام پسند آ جائے تو اسے اختیار کر لو ورنہ قومی مذہب ہی اچھا ہوتا ہے اور اس قسم کی باتیں جو بائیل میں آتی ہیں یہ ہر ایک کو سمجھانے والی نہیں ہوتیں۔تو اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک استعارہ تھا مگر چونکہ اندرونی شہادت موجود نہیں اور اس کی تشریح کیلئے جو نبی آیا کرتے تھے اُن کا سلسلہ بند ہو گیا اس لئے لوگوں کے لئے ان باتوں کا سمجھنا بڑا مشکل ہو گیا۔لیکن قرآن نے اپنے استعارات کے حل کے متعلق دونوں شہادتیں رکھی ہیں یعنی اندرونی بھی اور بیرونی بھی۔پس پہلی کتب اور قرآن کریم میں یہ فرق ہے کہ گو تشبیہہ اور استعارہ دونوں کتب میں استعمال ہوئے ہیں مگر پہلی کتب سے جو غلطی پیدا ہو جاتی تھی وہ ان کتب سے دُور نہیں ہو سکتی تھی مگر قرآن کریم کی کسی بات سے اگر کوئی غلطی لگے تو وہ قرآن سے ہی دُور ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے استعاروں کو کوئی حقیقت نہیں بنا سکتا اور نہ حقیقت کو استعارہ بنا سکتا ہے۔میں یہ مانتا ہوں کہ اس امر کا امکان ہے کہ کسی وقت مسلمان غلط فہمی سے لاکھ دولاکھ یا چار لاکھ کی تعداد میں بگڑ جائیں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے بگڑ جائیں حالانکہ عیسائی سب کے سب بگڑ گئے۔چنانچہ یہ دعویٰ جو میں قرآن کریم اپنے استعاروں کو آپ حل کرتا ہے نے کیا ہے کہ قرآن کریم اپنے استعارات کو آپ حل کرتا ہے اس کو قرآن کریم نے خود پیش کیا ہے۔وہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَي الكِتب منه ايتٌ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتب وَأَخَرُ مُتَشْبِهتْ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمُ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ إِلَّا اللهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّابِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِہ فرماتا ہے قرآن کے جو مضامین ہیں ان میں سے کچھ تو محکم ہیں یعنی ان میں استعارہ استعمال نہیں ہوا مگر کچھ آیتیں ایسی ہیں جن میں استعارے استعمال ہوئے ہیں۔یعنی الفاظ تو ہیں مگر ان میں تشابہ ہے۔مثلاً انسان کو بندر اور سؤر کہہ دیا گیا ہے۔فرماتا ہے وہ لوگ جو بھی چاہتے ہیں وہ استعاروں والی آیات کو لے کر