انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 336

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (1) عارضی طور پر پل بناتی ہیں تو ایسے سامان سے بناتی ہیں جو تھوڑے عرصہ تک کام دے سکے۔زیادہ پائیدار اور پختہ سامان نہیں لگا تیں۔اسی طرح پہلی تعلیمیں چونکہ عارضی تھیں اور اللہ تعالیٰ اُن کو منسوخ کر کے ایک کامل تعلیم اُتارنے کا ارادہ کر چکا تھا اس لئے ان کتب میں اندرونی شہادت نہ رکھی صرف بیرونی شہادت سے خطرات کا ازالہ کرتا رہا۔اس لئے جب بیرونی شہادت بند ہو گئی تو سابقہ الہامی کتب بھی منسوخ کر دی گئیں۔لیکن قرآن کریم چونکہ ابدی ہدایت نامہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے خطرات کے ازالہ کیلئے دوصور تیں رکھی ہیں۔اول بعثت مامورین۔دوم اندورنی شہادت۔تا کہ کسی وقت بھی ایسی غلطیاں مسلمانوں میں پیدا نہ ہوں جو سب کو گمراہ کر دیں۔پہلی کتب کے ساتھ چونکہ یہ حفاظت کے اسباب نہیں تھے اس لئے ان کے بعض مضامین سے لوگوں کو ٹھو کر لگی اور بعض مضامین کو وہ سمجھ ہی نہ سکے۔مثلاً بائیبل کی کئی آیات ان ہدایات پر مشتمل ہیں کہ اگر کپڑے کو کوڑھ ہو جائے تو تم کیا کرو۔اب یہ امر کہ کپڑے کو کوڑھ کس طرح ہو سکتا ہے انسانی عقل سے بالا ہے۔ڈاکٹر بھی اس بات سے ناواقف ہیں مگر بائیبل کی کتاب گنتی میں با قاعدہ کپڑوں کے کوڑھ کی قسمیں بیان کی گئی ہیں اور پھر اس کوڑھ کا علاج بتایا گیا ہے۔اب یقیناً یہ کوئی استعارہ ہوگا۔مثلا ممکن ہے کپڑوں سے مراد دل ہوں اور کپڑے کے کوڑھ سے مراد دل کی گندگی ہو۔جیسے قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ لیکن چونکہ اندرونی شہادت اس میں موجود نہیں اور نبی آنے بند ہو گئے اس لئے اب انسان ان باتوں کو پڑھتا اور ہنستا ہے۔گزشتہ دنوں ایک جرمن اُستانی میں نے اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینے کیلئے رکھی۔اُسے انگریزی کم آتی تھی میں نے سمجھا اُسے انگریزی نہیں آتی تو اس سے جرمن زبان ہی سیکھ لیتے ہیں۔چنانچہ وہ کچھ عرصہ پڑھاتی رہی۔ایک دن ایک شخص میرے پاس آیا اور میں نے اُسے تبلیغ کی تو وہ کہنے لگی۔ہر کتاب میں ہدایت کی باتیں ہیں۔توریت میں بھی بڑی بڑی کام کی باتیں ہیں پھر قرآن کو ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے کہا ہدایت ہونے پر تو کوئی اعتراض نہیں۔اعتراض تو اس امر پر ہے کہ اس میں بعض ایسی باتیں بھی پائی جاتی ہیں جو لغو ہیں۔چنانچہ میں نے کہا کیا کپڑے کو بھی کوڑھ ہوسکتا ہے؟ اُس نے کہا نہیں۔میں نے کہا بائیل میں یہ لکھا ہے چنانچہ بائیبل منگوا کر اُس کے سامنے رکھی گئی اور وہ باب نکال کر اُسے دکھایا گیا۔وہ سارا دن سر ڈالے بار بارا سے پڑھتی اور سوچتی رہی۔آخر مجھے کہنے لگی یہ بات میری عقل سے باہر ہے۔میں کسی پادری کو اس کے متعلق لکھوں