انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 304

مستورات سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۴ دینے کو بلایا اور پھر مارا۔اُس نے کہا کہ میں نے تمہیں سبق دینے کیلئے ایسا کیا ہے۔تم جو گتے کو روٹی دکھلا کر بلاتے تھے اور پھر مارتے تھے۔تو دیکھو نہ گتے میں عقل تھی نہ لڑ کے میں۔تو کیا تم خدا میں اُس آدمی جتنی بھی عقل مانتے ہو ؟ جو خدا ہم کو اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ مانگو میں دوں گا لیکن دیتا نہیں تو کیا خدا تعالیٰ نے کروڑ ہا مسلمانوں کو یونہی حکم دیا اور وعدہ کیا کہ میں تم کو وہی اگلے مُنْعَمْ عَلَيْهِمُ کے انعام دوں گا۔مسلمان رات کو اُٹھ کر سردی کے موسم میں اپنے بستر چھوڑ دیتے ہیں، گرمی کی راتیں چھوٹی ہوتی ہیں لیکن وہ اپنا آرام ترک کر کے اُٹھتے ہیں، پھر ایک آدمی نہیں کروڑہا آدمیوں سے خدا نے محول کیا کہ مانگو لیکن جب مانگ رہے ہیں تو دیتا نہیں۔غور کی بات ہے کہ قرآن مجید میں بھی یہ ہدایت نازل کر دی۔یہ لوگ خدا پر الزام لگاتے ہیں کہ خدا جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ایک مثال ہے کہ مالک دے اور بھنڈاری کا پیٹ پھٹے۔اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور مولوی کہتے ہیں کہ اُس کے خزانے کے مالک ہم ہیں۔ہم دینے نہیں دیتے۔ہمارا خدا تو کہتا ہے کہ تمہارے درجہ کے مطابق سب کچھ دوں گا اور مولوی کہتے ہیں کہ ہم دینے نہیں دیتے۔دیکھو یہ ایک عجیب بات ہے کہ نبوت کا مسئلہ عورتوں سے منقول ہے اور سورۃ النساء میں اسکا ذکر ہے یعنی عورتوں کی ہی سورۃ میں اس کا ذکر ہے۔یوں سمجھ لو کہ جب عورتوں ہی کی سورۃ میں ذکر ہے گویا عورت ہی نے یہ مسئلہ حل کیا ہے۔جب مردوں میں اس مسئلہ پر اختلاف ہوا تو اس کو حل کرنے والی ایک عورت ہی تھیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔خدا تعالیٰ نے تو عورتوں کی سورۃ (النساء) میں اس کو نازل کیا اور عورت سے ہی حل کرایا لیکن ہماری عورتیں کہتی ہیں کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ہے۔گویا خدا تو کہتا ہے کہ عورتیں سمجھ سکتی ہیں مگر عور تیں کہتی ہیں کہ نہیں سمجھ سکتیں۔یہ تو بہت کھلی دلیل ہے اس کو سمجھ لو۔ہر روز دعا کی جاتی ہے کہ اے خدا! ہم کو یہ یہ انعام دے۔خدا تعالیٰ نے سورۃ النساء میں وعدہ فرمایا کہ جس درجہ کا کوئی ہو ہم اُس کے درجہ کے مطابق اُس کو بنا دیتے ہیں۔اب یہ مسئلہ حل ہو گیا۔جس میں ہمارا اُن کا اختلاف ہے۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود جنہوں تیسرا مسئلہ نے آنا تھا وہ آچکے۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی آئیں گے۔یہ مسئلہ بھی ایک دو دلیلوں میں سمجھ آ سکتا ہے جو رسول کریم ﷺ نے اپنی سچائی میں پیش کیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں رسول کریم کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے کہو کہ میں نے نبوت