انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 302

انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب ط وَإِذْ قَالَ اللهُ يَعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَ أُمِّيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَنَكَ مَايَكُونُ لِى أَنْ أَقُولَ مَالَيْسَ لِى بِحَقِّ ، إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ، تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَا اَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ طَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوب o مَاقُلتُ لَهُمْ إِلَّامَآ اَمَرُتَنِي به آن اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّادُمُتُ فِيهِمْ = فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ یعنی جب خدا پوچھے گا کہ اے عیسی مریم کے بیٹے ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو دو خدا مانو ؟ عیسی جناب الہی میں عرض کریں گے۔اے خدا! میری کیا مجال تھی کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہیں۔اگر میں نے ایسا کہا تو حضور کو علم ہے۔تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور مجھے تیرے علم کا احاطہ نہیں تو ہی غیبوں کا جاننے والا ہے۔میں نے وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا۔یہی کہ ایک اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے اور میں اُن پر نگران رہا جب تک اُن میں زندہ موجود رہا۔وہ تو حید پر قائم رہے۔پھر جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی اُن کا نگرانِ حال تھا۔اللہ تعالیٰ یہ سوال قیامت کو کرے گا تو اس آیت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ عیسی علیہ السلام کہہ رہے ہیں کہ قوم کے لوگ گمراہ نہیں ہوئے ہیں اور اُن کی گمراہی ان کی وفات کے بعد ہوئی۔پس اگر عیسی علیہ السلام زندہ موجود ہیں تو پھر اُن کی امت گمراہ نہیں ہوئی لیکن امت گمراہ ہو چکی ہے۔کیونکہ وہ تو حید پر قائم نہیں۔پس امت کی گمراہی بتاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔قرآن کا یہی فیصلہ ہے، صحابہ نما بھی یہی فیصلہ ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پس اس بارے میں ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے ٹھیک ہے اور ہم نے اس راستہ کے اختیار کرنے میں کوئی غلطی نہیں کھائی اور خدا ہم سے ناراض نہیں ہوا۔دوسری بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی برکات سے کوئی غیر امتی آدمی خاص برکات حاصل نہیں کر سکتا۔یہ ایک موٹی مثال ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے۔دیکھو نماز ہر مسلمان بالغ عورت ہو یا مرد سب پر فرض ہے۔اسلام کا حکم ہے سات سال کے بچے کو نماز سکھاؤ اور دس سال کا بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے مار کر نماز پڑھاؤ۔کے اور ایک دن میں پانچ وقت نمازیں فرض ہیں۔2 اور ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھنے کا حکم دیا۔دیکھو دوسری سورتیں ہیں بعض رکعتوں میں چھوڑ دیتے