انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 297

انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب ( تقریر فرموده ۲۷۔دسمبر ۱۹۳۶ء بر موقع جلسہ سالانہ ) تشهد ، تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ اَلَمُ نَشْرَحْ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ہر ایک کام جو ہم کرتے ہیں اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور جو کام بے نتیجہ ہو اُس کو کوئی عظمند انسان پسند نہیں کرتا۔مثلاً زمیندار کو ہی دیکھو وہ ایک نتیجہ کی امید پر کس قدر محنت کرتا ہے، پہلے زمین پر ہل چلاتا ہے، پھر اُس پر سہا گہ پھیرتا ہے، پھر اُس میں بیج بکھیرتا ہے، پانی دیتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ میرا ایسا کرنا ضائع نہیں جائے گا بلکہ میری یہ محنت کئی گنا زیادہ پھل لائے گی کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ میرے باپ دادا نے ہمیشہ اسی طرح ہل چلایا ، بیج بویا ، تب غلہ ملا لیکن اگر زمیندار دیکھتا کہ میرے ہل چلانے ، سہا گہ پھیر نے اور بیج بکھیر نے ، کھاد ڈالنے اور پانی دینے کا نتیجہ کچھ نہیں ہو ایا پانچ دس دفعہ تو ہو گیا اور پھر کھیتی نہیں ہوئی تو وہ اتنی محنت نہ کرتا لیکن وہ دیکھتا ہے کہ نتیجہ ہمیشہ ہی نکل آتا ہے کبھی شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کھیتی خراب ہو جائے کھیتی خراب ہونے پر وہ اس کے ماہرین کے پاس جا کر پوچھتا ہے کہ کیا وجہ ہے ہماری کھیتی خراب ہوگئی ؟ پھر جو اُس کو مشورہ ملتا ہے زمیندار جا کر اس پر عمل کرتا ہے اور اُس کو پورا یقین ہوتا ہے اپنے کام کے نتیجہ نکلنے کا۔اسی وجہ سے وہ سردی کے موسم میں صبح سویرے جا کر پانی دیتا ہے اور گرمی کے دنوں میں دو پہر کے وقت خوشی سے اپنے کھیتوں میں کام کرتا رہتا ہے اور کبھی محنت سے نہیں اُکتا تا۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسی لئے کہ اُسے پورا یقین ہے کہ میری محنت ضائع نہیں جائے گی بلکہ یقیناً اس کا نتیجہ نکلے گا۔تو سوال یہ ہے کہ اگر ایک زمیندار تھوڑا بیج بکھیر کر جو چند روپوں کا ہوتا ہے ایک سال کے غلہ کیلئے اس قدر محنت کرتا اور یقین رکھتا ہے کہ محنت ضائع نہ جائے گی تو کیا جو کام ہماری جماعت کے لاکھوں آدمی کر رہے ہیں اور اپنے پیٹ کاٹ