انوارالعلوم (جلد 14) — Page 274
انوار العلوم جلد ۱۴ ہے وہاں بغیر رعایت اسباب بھی مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ایک رئیس سے مکالمہ ایک دفعہ کا ذکر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں حضور کو کھانسی بہت ہو گئی۔ڈاکٹر عبد الحکیم جو مرتد ہو چکے تھے انہوں نے قادیان کے اخبارات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیماری کا ذکر پڑھ کر اپنا یہ الہام شائع کر دیا کہ مرزا صاحب کو نَعُوذُ بِاللهِ سِل ہو گئی ہے۔( میرے نزدیک انہیں الہام نہیں ہوتا تھا اور جن الہامات کو پیش کرتے تھے وہ ان کے دماغی نقص کا نتیجہ تھے ) اُن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تیمار دار تھا اور نوجوان تھا اور نوجوانوں کی طبیعت تیز ہوتی ہے۔میں بڑی احتیاط سے پر ہیز کراتا اُن دنوں باہر سے کچھ پھل بطور تحفہ آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان میں سے کیلا لیکر کھانا شروع کر دیا میں نے روکا کہ آپ کو تو نزلہ کھانسی ہے اور اس میں یہ مضر ہوتا ہے۔حضرت خلیفۃ اوّل اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معالج تھے میں نے کہا مولوی صاحب کیلے سے منع کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسکراتے گئے اور کیلا کھاتے گئے۔آخر فرمایا۔مجھے ابھی الہام ہؤا ہے کہ کھانسی ہٹ گئی اس لئے میں نے کیلا کھا لیا ہے تا کہ آزمائش ہو جائے کہ کھانسی ہٹ گئی ہے یا نہیں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پھر کھانسی بالکل نہیں ہوئی۔تو جہاں منشائے الہی کے ماتحت کوئی نشان دکھانا مقصود ہوتا ہے وہاں تقدیر خاص کے ماتحت اکیلی دعاہی نتیجہ دکھا دیتی ہے ورنہ قرآن مجید کے عام احکام نافذ ہوتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے خاص اذن کے آنے تک دونوں باتیں دعاء اور توکل یعنی دعا اور رعایت اسباب مل کر چلیں گی۔لکھا ہے کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی بعض اوقات کئی کئی ہزار روپیہ کا کپڑا پہنتے تھے۔جب ان پر اسراف کا اعتراض ہوا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تو نگا رہنے کو بھی تیار ہوں۔اور میں تو نہیں کھا تا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر! تجھے میری ذات ہی کی قسم ہے کہ یہ کھا۔اور میں نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر! تجھے میری ذات ہی کی ہے کہ یہ پہن۔ورنہ میں تو بھوکا اور ننگا رہنے کو بھی تیار ہوں۔غرض جب تک انسان ایسے مقام پر نہ پہنچ جائے اُس وقت تک دعا تو کل اور تبلیغ تینوں چیزیں اکٹھی چلتی ہیں۔قرآن کریم میں دعا کا بھی حکم ہے۔کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور تبلیغ کا بھی حکم ہے۔کہ بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ اور پھر فرمایا کہ ثُمَّ اَبْلِغُهُ مَا مَنَهُ " کہ مخالفین اسلام کو بلاؤ