انوارالعلوم (جلد 14) — Page 245
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات میں راسخ کرنے چاہئیں۔اور اگر وہ اسلامی تعلیم کی تبلیغ نہیں کر سکتے تو پھر انہیں آنے بہانے بنانے کی ضرورت نہیں وہ اپنے نفس کیلئے جا رہے ہیں ، لذت اور سرور حاصل کرنے کیلئے جا رہے ہیں اور یہ منافقت ہو گی اگر وہ کہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کیلئے جا رہے ہیں۔مومن صاف دل اور صاف گو ہوتا ہے اسے ہمیشہ سچی بات کہنی چاہئے اور کچی بات ہی دوسروں سے سننی چاہئے۔پھر جو آئندہ ہماری طرف سے غیر ممالک میں مبلغ جائیں خصوصاً وہ جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ان کو بھی یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہاں سے جب بھی وہ نکلیں اس روح کو لے کر نکلیں کہ مغربیت کا مقابلہ کرنا اُن کا فرض ہے۔اگر وہ یہاں سے تعلیم حاصل کر کے جاتے ہیں لیکن مغربیت کے مقابلہ میں کمزوری دکھا دیتے ہیں اور بجائے مغربیت کو کچلنے کے اس کا اثر خود قبول کر لیتے ہیں تو ان کی مثال بالکل اُس شخص کی سی ہو گی جسے اپنے متعلق خیال ہو گیا کہ میں بہت بڑا بہادر ہوں اور پھر اس نے چاہا کہ اپنے بازو پر شیر کی تصویر گر وائے تا کہ اُس کی نسبت عام طور پر سمجھا جائے کہ وہ بہادر ہے۔جب نائی نے شیر کی تصویر گودنے کیلئے اس کے بازور پر سوئی ماری اور اسے درد ہوا تو کہنے لگا کیا گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا کہ شیر کی دُم گودنے لگا ہوں۔اس نے کہا اچھا اگر شیر کی دم نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔وہ کہنے لگا اچھا تو دُم چھوڑ دو اور کوئی اور حصہ گودو۔پھر جو اُس نے سوئی ماری تو اسے پھر درد ہوا۔کہنے لگا اب کیا گودنے لگے ہو؟ کہنے لگا دایاں کان۔اس نے پوچھا اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو کیا شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا اسے بھی چھوڑ دو اور کوئی اور حصہ گود و۔پھر اس نے بایاں کان گودنا چاہا تو پھر اس نے روک دیا، سرگودنا چاہا تو اسے روک دیا، یہاں تک کہ نائی نے سوئی رکھ دی اور کہنے لگا ایک حصہ نہ ہو تو شیر رہ سکتا ہے لیکن جب کوئی حصہ بھی نہ بنے تو شیر کی تصویر کس طرح بن سکتی ہے۔تو بعض لڑکے جنہیں ان کے ماں باپ نے اس نیت اور اس ارادہ سے اس جگہ داخل کیا تھا کہ وہ اپنے اندر قربانی کی روح پیدا کریں وہ اس روح سے چل نہیں سکے اور بعض ماں باپ بھی اس روح سے کام نہیں لے سکے جس روح سے کام لینا ان کیلئے ضروری تھا مگر یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ہر نئی چیز سے دو نظارے پیدا ہوا کرتے ہیں بعض لوگ پہلے اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر نکل جاتے ہیں اور بعض پہلے چیختے ہیں لیکن پھر خوشی سے شامل ہو جاتے ہیں۔یہ دونوں ناقص روح رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔کامل روح رکھنے والے وہ ہوتے ہیں جو