انوارالعلوم (جلد 14) — Page 242
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات رسول کریم ﷺ کے کیا جذبات تھے۔ایک طرف آپ کا یہ عقدِ ہمت تھا کہ زمین و آسمان مل سکتے ہیں مگر میں وہ تعلیم نہیں چھوڑ سکتا جس کی اشاعت کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے میں مبعوث کیا گیا ہوں۔اور دوسری طرف ابو طالب جو آپ کا نہایت محسن اور آپ کا چچا تھا اس کے جذبات آپ کے سامنے تھے اور آپ چاہتے تھے کہ اس کے اُن احسانوں کا جو اُس نے آپ پر کئے اور ان قربانیوں کا جو اس نے آپ کی خاطر کیں کسی نہ کسی صورت میں بدلہ دیں لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مقابلہ میں بندوں کا احسان کیا حقیقت رکھتا ہے کہ اُس کی طرف توجہ کی جاتی۔ان جذبات کے تلاطم نے رسول کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہا دیئے اور آپ نے اپنے چچا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔میرے چچا! میں آپ کیلئے ہر قربانی کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن خدا تعالیٰ کی تعلیم کی اشاعت میں میں کسی فرق اور امتیاز کو روا نہیں رکھ سکتا۔اے چا! آپ کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے اور آپ کا دکھ مجھے دکھ دیتا ہے لیکن اس معاملہ میں اگر آپ کی قوم آپ کی مخالفت کرتی ہے اور آپ میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو مجھے چھوڑ دیجئے۔باقی رہی نرمی کرنی سوخدا کی قسم! اگر میری قوم سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر رکھ دے تو میں اُس تعلیم کے پھیلانے میں کسی قسم کی کمی نہیں کروں گا جو خدا نے میرے سپرد کی ہے۔کتنی مایوسی کی گھڑیوں میں رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک بات پیش کی گئی اور کس رنگ میں آپ سے ایک مطالبہ کیا گیا مگر رسول کریم ﷺ نے کتنا شاندار جواب دیا کہ معمولی حالات نہیں اگر کفار زمین و آسمان میں بھی تغیر پیدا کر دیں اور حالات ان کے ایسے موافق ہو جائیں کہ سورج پر بھی ان کا قبضہ ہو جائے اور نہ صرف مکہ میں یہ مجھے پناہ نہ لینے دیں بلکہ آسمان کے ستارے بھی ان کے ساتھ مل جائیں اور یہ سب ملکر مجھے کچلنے اور مجھے تباہ و برباد کر نے کیلئے اکٹھے ہو جائیں تب بھی میں خدا تعالیٰ کے حکم کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔یہ وہ ایمان تھا کہ جب محمد اللہ سے اس کا خدا تعالیٰ نے مظاہرہ کرایا تو اس کے بعد آپ کو حکم دیا کہ جاؤ ایک نئی زمین ہم نے تمہارے لئے تیار کر دی ہے اُس میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاؤ۔وہ زمین مدینہ تھی جہاں خدا تعالیٰ نے ایک ایسی جماعت کھڑی کر دی جس نے اسلام کیلئے اپنے آپ کو قربانیوں کیلئے پیش کیا اور اپنے دعویٰ کو نباہا۔یہ چیز ہے جس کی اس وقت بھی ضرورت ہے۔میں نے مدتوں دیکھا مگر خاموش رہا، میرے کانوں نے سنا مگر میری زبان نہیں ہلی مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اسلام کی