انوارالعلوم (جلد 14) — Page 241
الله علی صلى الله صلى الله مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات میں انوار العلوم جلد ۱۴ کیلئے تیار تھے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کہنا اور انہیں بُرا بھلا کہنا چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس سے ان کی ہتک ہوتی ہے۔اور باوجود اس کے کہ اس تجویز کے پیش کرنے کیلئے انہوں نے ذریعہ بھی وہ اختیار کیا جو ہمارے مبلغوں کے سامنے پیش نہیں ہوتا۔وہ ایک ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سب سے زیادہ محسن ہے۔محمد ماہ کی بچپن کی زندگی کے لمحات اس کے ممنونِ احسان ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ایک معتد بہ حصہ اس کے گھر سے صلى الله کھائی ہوئی روٹیوں سے غذا حاصل کرتارہا ہے اور محمد ﷺ کا جسم سالہا سال تک اس کے دیئے ہوئے کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانکتا رہا ہے۔پھر نبوت کے زمانہ میں باوجود اس کے کہ مذہبی طور پر وہ محمد ﷺ سے متفق نہ ہوا، ہر تکلیف میں وہ آپ کا ساتھ دیتا اور ہرمشکل میں وہ آپ کا ہاتھ بٹاتا محمد ﷺ کے ایسے محسن کے پاس وہ لوگ جاتے اور اسے کہتے ہیں کہ اب تک تو تم نے یہ خطرناک غلطی کی کہ تم محمد ﷺ کا ساتھ دیتے رہے اور اپنی قوم کی جڑیں کٹوانے میں تم اس کی مدد کرتے رہے مگر اب ہم اس کی باتوں کی برداشت نہیں کر سکتے ، ہم اس بات کیلئے بالکل تیار ہیں کہ اس کے ساتھ مل جائیں مگر یہ ہم سے نہیں دیکھا جاتا کہ وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دے۔پس اگر وہ اس بات کو منظور کرے کہ ہمارے بتوں کو گالیاں نہ دے تو ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ نہ مانے اور آپ بھی اس سے اپنا تعلق منقطع نہ کریں تو پھر آپ سے بھی ہمارے تعلقات جاتے رہیں گے۔رسول کریم ﷺ کے چچا جن کا اِس واقعہ میں میں ذکر کر رہا ہوں ان کا نام ابو طالب تھا انہوں نے آپ کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! تجھے معلوم ہے کہ میں نے تیری خاطر اپنی قوم سے لڑائی کی ، پھر تجھ کو معلوم ہے کہ تیری تعلیم سے تیری قوم کتنی متنفر اور کس قدر بیزار ہے، آج اس قوم کے بہت سے معزز افرا دل کر میرے پاس آئے تھے اور وہ کہتے تھے کہ تو صرف اتنی سی نرمی کر دے کہ بتوں کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال چھوڑ دے اگر تو اس بات کیلئے تیار نہ ہو تو پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ابو طالب سے بھی اپنے تعلقات منقطع کر لیں گے۔تجھ کو معلوم ہے کہ میں اپنی قوم کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ اپنے تعلقات اس سے منقطع کر سکتا ہوں۔پس کیا تو میری خاطر اپنی تعلیم میں اتنی معمولی سی کمی نہیں کرے گا ؟ یہ مطالبہ ایسے منہ سے نکلا تھا کہ یقیناً دُنیوی لحاظ سے اس کا رڈ کرنا نہایت مشکل تھا، ہمارے مبلغ جو مغرب میں تبلیغ اسلام کیلئے جاتے ہیں ان کے سامنے اس قسم کی جذباتی تقریر کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، پس ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اُس وقت