انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 225

انوار العلوم جلد ۱۴ سرمیاں فضل حسین صاحب کی المناک وفات پر خطاب پنجاب کی حالت اس قسم کے لوگوں اور خصوصاً احرار کی وجہ سے پہلے ہی خطر ناک تھی اور ہے۔مگر اس کشمکش میں جو سیاسیات میں حصہ لینے والے مسلمان تھے ان میں سے سرمیاں فضل حسین صاحب کی ذات ایسی تھی جو مسلمان لیڈروں کو قابو میں رکھنے اور انہیں میانہ روی پر چلانے کی اہل تھی مگر جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہو چکا ہوگا وہ گل رات فوت ہو گئے ہیں۔ان کی وفات کی وجہ سے پنجاب کے مسلمانوں کی سیاسی دنیا میں ایک بہت بڑا شقاق پیدا ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو ہر چیز کا علاج ہوتا ہے اور ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی قائم مقام ہوتا ہے مگر بظاہر موجودہ حالت ایسی ہے کہ خطرہ ہے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو جائے اور بجائے اتحاد اور یکجہتی سے رہنے کے وہ پراگندگی اور تشقت کا شکار ہوکر اغیار کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بن کر نا چنا شروع کر دیں۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے اس امر کو شامل رکھیں۔ہماری جماعت کا مرکز پنجاب میں ہے اور ہماری تبلیغ کا دائرہ بھی زیادہ تر پنجاب میں ہی وسیع ہے اس لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کرے جو مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے والے ہوں اور انہیں توفیق دے کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کی حفاظت کر سکیں اور ہندوؤں ، سکھوں اور ان غیر مذاہب کے لوگوں کو بھی جو مسلمانوں کے حقوق میں روکیں پیدا کرتے رہتے ہیں، ہدایت دے۔ہمارے سیاسی حالات کو وہ اپنے فضل سے بدل دے اور دنیا میں امن قائم کر دے تا ہماری تبلیغ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ہر شخص جو دنیا میں آیا اُس نے آخر مرنا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کوئی شخص ایسا نہیں ہوتا جس کا خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی قائم مقام نہ بنایا ہو اور جس کے کام کو چلانے کا اس نے سامان نہ کیا ہو بشرطیکہ وہ نیک آدمی ہو اور موت تو ایسی چیز ہے جس نے ہر ایک پر آنا ہے مگر میں سمجھتا ہوں سلسلہ احمد یہ کے مخالفین کیلئے سرمیاں فضل حسین صاحب کی وفات بھی ایک الہی نشان ہے۔ان پر بڑا الزام یہ لگایا جاتا تھا کہ وہ مرزائیت نواز ہیں۔یہ الزام اُس وقت لگایا گیا جب میاں صاحب گورنمنٹ کے عہدہ سے الگ ہو کر پنجاب میں بیماری کی حالت میں آ بیٹھے تھے۔مگر کیا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت نہیں کہ وہ شخص جو تمام عہدوں سے الگ ہو کر گھر آ بیٹھا تھا، اس کیلئے خدا تعالیٰ نے نہایت غیر معمولی سامان کر کے موت سے کچھ دن پہلے اسے عزت کے ایک مقام پر بٹھا دیا۔ان پر الزام یہ لگایا جاتا تھا کہ وہ مرزائیت نواز ہیں اور اس الزام سے مخالفین کا مقصد یہ تھا کہ وہ