انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 224

انوار العلوم جلد ۱۴ سرمیاں فضل حسین صاحب کی المناک وفات پر خطاب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سرمیاں فضل حسین صاحب کی المناک وفات پر خطاب تحریر فرموده ۱۰۔جولائی ۱۹۳۶ قبل از خطبه جمعه به مقام قادیان) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔آج کا خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گو ہماری جماعت ایک دینی جماعت ہے مگر دین کی ترقی اور اس کے بڑھنے کیلئے بھی ڈ نیوی سامانوں اور ڈ نیوی امن کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔پس ایک دینی جماعت دنیا کے امن سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی اور دنیا میں فتنہ و فساد اور خطرات و مصائب کے اگر سامان ہوں تو وہ انہیں نظر اندار نہیں کرسکتی۔ہندوستان میں قریب زمانہ میں ہندوستانیوں کو ایسے حقوق ملنے والے ہیں کہ جن کو کانگرس اور کانگرس کے ہمنوا گو بہت ہی قلیل بلکہ نا قابلِ قبول قرار دیتے ہیں مگر اندرونی طور پر ان کے قلوب بھی اس امر کو محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ حالت سے بہت زیادہ حقوق ہندوستانیوں کے ہاتھ میں آنے والے ہیں اور وہ لوگ جن کو اس بات سے دُکھ ہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کو بعض حقوق کیوں مل گئے ان کی وجہ سے پنجاب کی آئندہ حالت نہایت ہی خطرناک نظر آتی ہے اور خدشہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ شقاق اور لڑائیاں پہلے سے بہت زیادہ ہوں۔ہمارا صوبہ جنگی صو بہ کہلاتا ہے۔شاید اس کے اتنے معنے یہ نہیں کہ ہمارے صو بہ کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں جتنے اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سونٹے کے محتاج ہیں۔دوسرے لوگ جب کسی معاملہ میں اختلاف رکھتے ہوں تو اپنے اختلاف کا دلائل سے فیصلہ کیا کرتے ہیں لیکن ہمارے صوبہ کے لوگ دوسروں کے متعلق کشتی اور گردن زدنی کے نعرے لگا لگا کر ان پر غالب آنا چاہتے ہیں۔