انوارالعلوم (جلد 14) — Page 216
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔۔۔کے مجموعہ اور تمام خوبصورتیوں کے جامع قرآن کی طرف۔دنیا داروں نے دنیا کی چیزوں کو دیکھا اور ان کے حسن کو انہوں نے محسوس کیا محمد ﷺ نے روحانی دنیا میں قرآن کو دیکھا اور اس کے حُسن کو انہوں نے اپنے دل میں جگہ دی اور دکھ محسوس کیا کہ لوگوں نے کیوں اسے چھوڑ دیا۔لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میرا بیٹا بڑا ذہین ہے مگر استاد اُس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور وہ فیل ہو جاتا ہے، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میری بیٹی بڑی لائق ہے مگر اس کا خاوند اس سے اچھا سلوک نہیں کرتا ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں میرا بیٹا بڑا لائق ہے مگر اس کی بیوی اس سے محبت نہیں کرتی ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے بیٹے نے اعلیٰ نمبروں میں امتحان پاس کیا ہے مگر تمام محکموں پر ہندو چھائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اسے نوکری نہیں ملتی ، لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارا بچہ بیمار ہے اس کی حالت نہایت دردناک ہے۔غرض ہر شخص دنیا کی چیز دیکھتا اور دنیا کی چیزوں کے متعلق اپنے در د دوسرے کے سامنے پیش کرتا ہے مگر محمد ﷺ خدا کا قرآن لیکر اُس کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے خدا! اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔کیا ہے وہ زندگی اور کیا نفع ہے اس حیات کا جس میں ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ہم دنیا کو مخاطب کرتے اور کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں جو اسلام کیلئے اپنی جانیں دینے کیلئے تیار ہیں مگر عمل سے کچھ نہیں کرتے۔اور نہیں سوچتے کہ کیا واقعہ میں ہم اسلام کیلئے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔یا کیا ہم دنیا کو اتنا بے وقوف سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری حالتوں کو نہیں دیکھتی اور ہمارے جھوٹ کو محسوس نہیں کرتی۔کیا ممکن ہے کہ ہم سارے کے سارے بحیثیت جماعت یا ہم میں سے اکثر اسلام کیلئے اپنی جانیں دینے کیلئے تیار ہوں اور خدا تعالیٰ کے ملائکہ آسمان سے اتر کر دنیا کا نقشہ نہ بدل دیں۔مگر ابھی تو ہماری چھوٹی سے چھوٹی تدبیریں اور تجویزیں بھی جدید اور قدیم کے ناموں میں اُلجھتی رہتی ہیں۔گویا ہماری مثال اُس بچہ کی سی ہے جس کی ماں مر جاتی ہے اور بچہ سمجھتا ہے کہ ماں جو مجھ سے نہیں بولتی تو وہ مجھ سے مذاق کر رہی ہے۔اسلام میں اب کیا باقی رہ گیا ہے؟ اس کی روح اس سے نکل گئی ہے۔قرآن کی روح بھی جاتی رہی ہے مگر ہم ابھی کھیل رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ابھی موت کا دن آنے والا ہے۔حالانکہ اس کی موت کا دن آچکا اور ہم اپنی نادانی اور بے وقوفی سے بچہ کی طرح اسے مذاق سمجھ رہے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو اسلام کا سوائے اس کے اور کیا باقی ہے کہ لوگ آئیں اور اس کی لاش کو دفن کر دیں۔ایک بچہ جس دن اُس کی ماں مرتی ہے یہ نہیں سمجھتا کہ اُس کی ماں مرگئی ہے مگر