انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxiv
انوار العلوم جلد ۱۴ ۱۸ تعارف کتب رجوع کرے اور اپنی مشکلات کیلئے دعا کرائے تو اللہ تعالیٰ اُس کی مشکلوں کو دُور کر دے گا مگر شرط یہ ہے کہ پھر وہ دنیا کی محبت چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنے کے لئے جو اُس نے تدبیریں بتائی ہیں اُن پر عمل کر کے پر ماتما کے سچے عاشق اور مخلص سیوک بن جائیں۔(۱۵) تحریک جدید ایک قطرہ ہے قربانیوں کے اُس سمندر کا جو تمہارے سامنے آنے والا ہے " مؤرخه ۲۸ جون ۱۹۳۶ ء کو قادیان میں تحریک جدید کے بارہ میں جلسہ کا انعقاد ہوا جس میں حضرت مصلح موعود نے باوجود نا سازی طبع کے نہایت بصیرت افروز اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔آپ نے نہایت دلکش انداز سے مثالوں اور واقعات کے ذریعہ قربانیوں کے فلسفہ قربانیوں کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔تحریک جدید کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسانی فطرت جدت پسند ہے وہ سب کچھ سننے کے بعد پھر بھی خواہش کرتی ہے کہ کچھ سنایا جائے اور نئے پیرا یہ میں سنایا جائے اسی لئے میں نے اس تحریک کا نام جدید “ رکھا حالانکہ یہ تحریک کوئی جدید نہیں بلکہ قدیم ترین تحریک ہے اور دنیا کے آغاز سے ہی ہر نبی کے دور میں یہ تحریک پیش کی گئی۔قربانیوں کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کا یہ اصول ہے کہ بڑی چیزوں پر ہمیشہ چھوٹی چیزوں کو قربان کر دیا جاتا ہے۔مگر اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کمزور انسانیت کیلئے اپنے قیمتی سے قیمتی جو ہروں کو قربان کیا۔چنانچہ ہر دور میں جب انسان بدبختی اور شقاوت کا شکار ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے قیمتی وجود یعنی انبیاء کو بھیجا جنہوں نے اُس قوم کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیں۔آپ نے تفصیل کے ساتھ ان قربانیوں کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ بالآخران تمام قربانیوں کا اجتماع ہمیں آنحضور ﷺ کی ذات میں نظر آتا ہے۔آپ کو اس قدر قربانی دینی پڑی کہ اللہ تعالیٰ کو یہ کہنا پڑا۔اے محمد رسول اللہ ﷺ ! شاید کہ غم کی چھری تجھ کو ذبح کرتے کرتے تیری گردن کے آخری تسموں کو بھی کاٹ دے گی۔