انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 198

انوار العلوم جلد ۱۴ وہی ہمارا کرشن احسان و مان دیکھتے ہوئے اس سے فرق کیوں کریں ؟ بیوقوف بچے جب آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں ماں کی ایک آواز سن کر ایک دوسرے کا گلا چھوڑ کر ماں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔وحشی کبوتر تک جس کی فطرت میں آزادی ہے اپنے دانہ ڈالنے والے کی آواز کو سن کر اپنی آزادی کو بھول جاتا ہے اور ڈربے کی تنگ اور تاریک جگہ پر اپنی بے قید پرواز کو قربان کر دیتا ہے۔کیونکہ دانہ ڈالنے والے کی آواز کا انکار اُس سے نہیں ہو سکتا۔پھر اے پیارے ہندو بھائیو! کیوں تم اس آواز کی طرف دھیان نہیں کرتے جو تمہارے پر میشور نے ساری دنیا کو اپنے گرد جمع کرنے کیلئے بلند کی ہے۔کیا صرف اس لئے کہ وہ ایک مسلمان کے منہ سے نکلی ہے؟ مگر کیا تم بھول گئے ہو کہ پر ماتما کی کوئی چیز مقید نہیں ہوتی۔ہندو اور مسلمان اور عیسائی سب نام بندوں کے ہیں۔جب پر ما تما کسی کو چن لیتا ہے تو پھر وہ قوموں کے بندھن سے آزاد ہو جاتا ہے، وہ کسی خاص قوم کا نہیں رہتا ، ہر قوم اُس کی ہو جاتی ہے اور وہ سب کا ہو جاتا ہے۔اے ہندو بھائیو! اسی طرح اس زمانہ کا اوتار کسی خاص قوم کا نہیں۔وہ مہدی بھی ہے کیونکہ مسلمانوں کی نجات کا پیغام لایا ہے ، وہ عیسی بھی ہے کیونکہ عیسائیوں کی ہدایت کا سامان لایا ہے، وہ نہہ کلنک اوتار بھی ہے کیونکہ وہ تمہارے لئے ہاں اے ہندو بھائیو! تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی محبت کی چادر کا تحفہ لایا ہے۔تم پرانے بزرگوں کی اولاد ہو۔تم کو بجا فخر ہے کہ ہمارے باپ دادے سب سے پرانی تہذیب کے حامل تھے۔تم ایک ایسے فلسفہ کو پیش کرتے ہو کہ تمہاری تاریخ اس سے پہلے کسی فلسفہ کو تسلیم ہی نہیں کرتی مگر کیا تم ان پر انے جسموں کو اس پرانی روح سے خالی رکھو گے جو پر ماتما کی طرف سے آتی ہے جو سب سے قدیم اور سب سے پرانا ہے؟ پرانی چیز میں قابل قدر ہوتی ہیں مگر تبھی تک جب تک کہ ان میں جان ہوتی ہے۔تمہارے ماں باپ جس قدر بوڑھے ہوتے جاتے ہیں تم اُن کی زیادہ عزت کرتے ہو لیکن جب وہ مر جاتے ہیں تم ان کو چنتا پر لٹا کر جلا دیتے ہو۔پس پرانی چیز قابل عزت ہے لیکن جب تک اس میں جان ہو۔پھر تم اپنی پرانی اور قابل عزت چیزوں میں جان ڈالنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جن کو وہ ایک دفعہ عزت دیتا ہے ان کے ساتھ ہمیشہ تعلق نبھاتا ہے اور اگر وہ اس کی طرف رجوع کر کے نیکی کی روح حاصل کریں تو انہیں دوسروں سے زیادہ عزت بخشتا ہے۔پس اگر تم کو قدیم تہذیب اور قدیم فلسفہ کا ورثہ ملا ہے تو اسے