انوارالعلوم (جلد 14) — Page 197
انوار العلوم جلد ۱۴ اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ وہی ہمارا کرشن بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ وہی ہمارا کرشن پیارے ہندو بھائیو! ہم ایک وطن میں رہتے ہیں، عام طور پر ایک ہی بولی بولتے ہیں، پر ماتما کا روشنی دینے والا سورج ہم سب کو ایک ہی روشنی دیتا ہے، اس کا خوبصورت چاند ہم سب کو بغیر فرق کے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے۔رات کا اندھیرا جب ساری دنیا پر چھا جاتا ہے جب ہمارے اپنے حواس بھی ہم کو چھوڑ جاتے ہیں اور دن کا تھکا ہوا جسم بے جان ہو کر چار پائی پر گر جاتا ہے اُس وقت خدا کے فرشتے اپنے پریم کے پروں کو پھیلا کر ہم سب پر اپنا سایہ کر دیتے ہیں اور ہندو مسلمان میں فرق نہیں کرتے۔ہمالہ کی چوٹیوں پر پڑی ہوئی برف جب سورج کی گرمی سے پھلتی ہے اور دریاؤں کے پانیوں کو ان کے کناروں تک بلند کر دیتی ہے، جب خوبصورت گنگا اور دل لبھانے والی جمنا اپنے اچھلنے والے پانیوں کو پیاس سے خشک ھد ہ کھیتوں میں لاکر ڈالتی ہیں وہ کبھی بھی نہیں دیکھتیں کہ کون مسلمان ہے اور کون ہند و۔وہ آگ جو گند کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور انسانی دوزخ کو بجھانے کے کام آتی ہے ہندو کی بھاجی اور مسلمان کے سالن کے پکانے میں اس نے کبھی فرق نہیں کیا۔پھر جب پر ماتما کی نعمتوں نے ہم سب میں کوئی فرق نہیں رکھا ہماری اس سے محبت کیوں فرق والی ہو۔سوتیلے باپ اور سگے باپ کی محبت میں فرق ہو سکتا ہے پر اپنے باپ کی محبت میں بچے کبھی فرق نہیں رکھتے۔وہ آپس میں لڑ سکتے ہیں لیکن اپنے باپ اور اپنی ماں سے محبت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔پر ہمیں کیا ہو گیا ہم آپس کی لڑائیوں میں اپنے پر ماتما کو بھی بھول گئے ہیں۔ہم یہ بھی تو خیال نہیں کرتے کہ اس نے ہمارے گناہوں کو دیکھ کر بھی ہم میں فرق نہیں کیا۔تو ہم اس کے