انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 192

انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سکھنے کی کوشش کی جائے ال کہتے ہیں لگ جائیگی اور وہ اس کی قومیت بن جائے گی حالانکہ اگر آزادانہ پیشہ اختیار کرنے کا طریق رائج ہو تو بالکل ممکن تھا کہ ایک درزی کا کام کرنے والے کا بیٹا اچھا لو ہار یا اچھا نجاریا اعلیٰ معمار بن سکتا۔پس اس طریق کا انفرادی طور پر بھی نقصان ہوا اور قومی طور پر بھی۔یورپ میں لوگوں نے اپنے آپ کو ان نقصانات سے بچا لیا ہے۔نہ ان کے نام کے ساتھ کوئی آل لگی اور نہ ان کے پیشے ہی محدود ر ہے کیونکہ انہوں نے ایک ہی کام پر جمے رہنا پسند نہیں کیا بلکہ کام تبدیل کرتے گئے۔اور انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتی ہے۔مرد کم تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے مگر عورت زیادہ تبدیلی چاہتی ہے۔گھروں میں دیکھ لو جب کبھی عورتیں صفائی کرتی ہیں تو چیزوں کو ادھر سے اُدھر رکھ کر نقشہ بدل دیتی ہیں اور بالکل بلا وجہ ایسا کرتی ہیں۔پہلے اگر چار پائی مشرقی دیوار کے ساتھ ہوگی تو پھر مغربی دیوار کے ساتھ کر دی جائے گی ، کبھی جنوبی دیوار کے ساتھ لگا دی جائے گی اور کبھی پھر مشرقی دیوار کے ساتھ رکھ دی جائے گی۔یہ صرف نظارے کی تبدیلی ہوتی ہے۔بہر حال تبدیلی ترقی کیلئے ضروری چیز ہے گوتبدیلی میں تنزل کا پہلو بھی ہوتا ہے مگر اس میں ترقی بھی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ ایک حالت میں رہنا پسند نہیں کرتا بلکہ تغیر چاہتا ہے اور کام کی تبدیلی کے ساتھ بھی بہت سے خاندان بڑھتے اور گھٹتے ہیں۔غرض ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اس صنعتی سکول کی ابتداء کی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہندوستان کے تنزل اور اس کی تباہی کی ایک وجہ ان پیشوں کا ہمارے ہاتھوں سے نکل جانا ہے اور یورپ کی ترقی کی وجہ ان پیشوں کا ان کے ہاتھ میں چلا جانا ہے۔پھر میرے مد نظر یہ بات بھی ہے کہ اس طرح بے کاری کو دور کرنے کی بھی کوشش کی جائے مگر میں فوری طور پر اس کام کو وسعت نہیں دے سکتا کیونکہ ہمارے پاس سرمایہ کم ہے۔گومیری خواہش یہی ہے کہ ہر بیکار کو کام پر لگایا جائے۔مگر عقل چاہتی ہے کہ کام کو اس طریق سے نہ چلایا جائے کہ چند دن جاری رہ سکے اور پھر ختم ہو جائے بلکہ ایسے طریق سے قدم اُٹھایا جائے کہ جس سے ہمارے کام کو دوام نصیب ہو۔فی الحال میں نے یہ سکیم بنائی ہے کہ ایک استاد کے ساتھ تین شاگرد ہوں۔اس طرح کام چلا نا سہل ہو گا۔ہر تیسرے ماہ طالب علموں کا انتخاب ہوا کرے گا اور مزید تین تین لڑکوں کو لیکر کام پر لگا دیا جائے گا۔اس طرح سال میں ہر ایک استاد کے پاس بارہ طالب علم ہو جائیں گے