انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 167

انوار العلوم جلد ۱۴ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ حقیقت حال بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ حقیقت حال میں نے ایک عرصہ سے اہلِ جموں وکشمیر کے نام اپنے خطوط کا سلسلہ بند کیا ہوا تھا اور یہ اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھے اہل کشمیر سے ہمدردی نہ رہی تھی بلکہ اس کی وجوہ اور تھیں اور میرا ان وجوہ کی بناء پر خیال تھا کہ میری طرف سے سلسلہ خطوط کا جاری رہنا لیڈران کشمیر کے لئے مشکلات پیدا کرے گا۔پس خود اہل کشمیر کے فائدہ کیلئے میں خاموش رہا۔اس کے بعد میں دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں صدارت سے علیحدہ ہو کر امداد سے غافل نہیں رہا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں پس پردہ کوشش نہ کرتا رہتا تو یقیناً موجود حالت سے بھی بدتر حالت ہوتی لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھ کر میں نے اس امداد کا اظہار نہیں کیا کیونکہ اس میں نقصان کا خطرہ تھا۔سب سے اول میں نے یہ کام کیا کہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد جن کے نام اور کام سے کشمیر کا ہر عاقل بالغ واقف ہے انہیں انگلستان ہدایت بھجوائی کہ وہ انگلستان میں لوگوں کو کشمیر کے حالات سے واقف کریں تا اس سے لوگوں کو دلچسپی پیدا ہو ، چنانچہ انہوں نے دو کام اس بارہ میں کئے۔(۱) مختلف ذمہ دار لوگوں سے اور پریس سے مل کر کشمیر کے متعلق ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ کئی اخبارات میں ہمدردانہ مضامین نکلے۔جن میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر ڈیلی ٹیلی گراف کا وہ مضمون ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ پہلے یہ بتایا جاتا تھا کہ کشمیر کے فسادات افسروں کی نالائقی کے سبب سے ہیں لیکن اب تو انگریز افسر چلے گئے ہیں پھر بھی فساد ہو رہا ہے۔معلوم ہوا کہ کوئی گہر ا نقص ہے جس کے لئے اب ہمیں ایک اور کمیشن بٹھانا چاہئے اور ان نقصوں کو دور کرنا چاہئے۔اس پر درد صاحب نے ایک تائیدی مضمون لکھا اور وہ اس اخبار میں چھپ گیا۔یہ اخبار موجودہ حکمران جماعت کا اخبار ہے اور سب سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔