انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 142

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہیں۔لیکن انبیاء کے زمانہ میں قوم کی قوم روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیتی ہے۔چنانچہ میرا عقیدہ یہی ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ بھی ترقی کر سکتے۔بلکہ بعض صحابہ سے بھی بڑھ سکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ بعد میں آنے والے تمام بزرگ صحابہؓ سے کم درجہ رکھنے والے ہوں۔ہو سکتا ہے کہ اُمت محمدیہ میں ایسے کئی بزرگ ہوئے ہوں جو صحابہ سے افضل ہوں۔بلکہ یقیناً امت محمدیہ میں ایسے بزرگ ہوئے ہیں جو کئی صحابہ سے افضل تھے۔لیکن یہ درجہ حاصل کرنے والے بعض افراد ہی ہوتے ہیں۔عام طور پر صحابی اور تابعی آئندہ زمانہ میں آنے والے عام لوگوں سے افضل ہوتے ہیں۔اور بحیثیت جماعت نبی کے زمانہ کی جماعت کا اور کوئی جماعت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ہاں بحیثیت افراد ممکن ہے بعض ایسے قابلیت رکھنے والے پیدا ہو جائیں جو پہلوں جیسا مقام حاصل کر لیں۔پس آپ لوگ اس وقت جس قدر قربانیاں کریں گے، اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو آپ کے کھاتے میں لکھتا چلا جائے گا اور جس قدر ان قربانیوں میں کمی کریں گے، اسی قدر آپ کے اخروی انعامات میں کمی آتی چلی جائے گی۔اور یہ نہ سمجھیں کہ آپ کیلئے صرف اُخروی نعمتیں ہیں ، دنیوی نعمتوں میں آپ کا حصہ نہیں کیونکہ آپ کے طفیل آپ کی اولادوں کو دُنیوی ترقی ملے گی اور اپنے انعامات کو آپ اللہ تعالیٰ کے پاس پائیں گے۔پس یہ غلط ہے جو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ترقی حاصل کرنے پر امن مل جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ جب صبح چڑھ گئی تو پھر سلامتی نہیں رہے گی۔سلامتی اسی میں ہے کہ اس رات کی عظمت کو پہچانو اور وہ قربانیاں کرو جن کا اس وقت تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا۔میرے بعد پہلے خلافت ہو گی ، پھر بادشاہت آ جائے گی جو تمہیں نقصان بھی پہنچائے گی۔اسے پس جس زمانہ کولوگ مصیبت کا زمانہ کہتے ہیں ، ہمارا خدا اس کو سلامتی کا زمانہ کہتا ہے اور جس زمانہ کو لوگ ترقی کا زمانہ کہتے ہیں، ہمارا خدا اس کو سلامتی کے اُٹھ جانے کا زمانہ کہتا ہے۔پس مت سمجھو کہ جن قربانیوں کا تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے ، یہ تمہارے لئے مصیبت کا موجب ہیں۔انہیں مصیبت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھو۔اور یقیناً یاد رکھو کہ جتنی قربانیاں آپ لوگ اس وقت کریں گے، وہ اخروی زندگی میں آپ کو فائدہ پہنچائیں گی۔اور دنیوی زندگی میں آپ کی اولادوں کو فائدہ پہنچائیں گی۔اور یہ قربانیاں آپ کی تباہی کا باعث نہیں بلکہ بہت بڑی ترقی کے سامان ہیں۔