انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 141

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت کلام لانے والے فرشتے اترتے ہیں۔ملائکہ سے عام فرشتے مراد ہیں اور روح سے کلامِ الہی لانے والے فرشتے۔بِاِذْنِ رَبِّهِمُ خدا تعالیٰ کا حکم لے کر وہ اُترتے ہیں۔مِنْ كُلِّ اَمْرٍ كا اور کوئی ایسی روحانی نعمت نہیں جو اس رات میں نہ اُترتی ہو۔دُنیوی لحاظ سے وہ بے شک مصیبتوں کا زمانہ ہوتا ہے لیکن دینی لحاظ سے اس رات سے بڑھ کر بابرکت رات اور کوئی نہیں ہوتی۔سَلَامٌ هِی 1 وہ رات سلامتی ہی سلامتی اپنے اندر رکھتی ہے۔اور جتنی زیادہ مشکلات آتی ہیں ، اتنی ہی زیادہ برکات کا نزول ہوتا ہے۔اور یہ سلسلہ برکات اُس وقت تک جاری رہتا ہے۔حشی مطلع الفجر 19 یہاں تک کہ فجر کا طلوع ہو جاتا ہے ،مصائب و مشکلات کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے، قربانیوں کا دنیا کیلئے کوئی موقع باقی نہیں رہتا ، آرام و آسائش کے دن آ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کیلئے تکلیف اٹھانے والے ایام گزر جاتے ہیں۔تب آسمان کی نعمتیں آسمان پر رہ جاتی ہیں اور زمین ان برکات سے حصہ نہیں لے سکتی۔کسی وضاحت سے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتایا ہے کہ وہ مصائب و مشکلات جنہیں تم برداشت کرتے ہو اور وہ تکلیفیں جنہیں تم خدا تعالیٰ کیلئے سہتے ہو، وہی تمہاری ترقی کا ذریعہ ہیں۔نہ صرف دینی لحاظ سے بلکہ دنیوی لحاظ سے بھی۔ان تکلیفوں کے بدلے ایک وقت دنیا میں تمہاری اولادوں کیلئے دن چڑھ جائے گا اور وہ دُنیوی نعمتوں سے متمتع ہوں گے۔لیکن آخرت تمہارے لئے ہی ہوگی کیونکہ تم وہ ہو جنہوں نے ایک ما مور کا زمانہ پا کر اس کے پیغام کی اشاعت کیلئے اس بابرکت رات میں قربانیاں کیں جو سلامتی ہی سلامتی اپنے اندر رکھتی ہے۔رسول کریم اللہ بھی فرماتے ہیں۔سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرا زمانہ پایا ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ۔پھر وہ لوگ اچھے ہیں جنہوں نے میرے دیکھنے والوں کو دیکھا۔ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ پھر وہ لوگ اچھے ہیں جنہوں نے تابعین کو دیکھا۔لیکن اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔" اور روحانیت دنیا سے اُٹھ جائے گی۔پس انبیاء علیہم السلام کے زمانہ سے لوگ جتنا جتنا دور ہوتے چلے جائیں اتنا ہی ان کے روحانی مدارج میں کمی آتی چلی جاتی ہے اور جتنا زیادہ وہ قریب ہوتے اور قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، اسی قدر زیادہ انہیں روحانی مدارج ملتے ہیں۔انبیاء علیہم السلام کے زمانہ کے بعد بھی گوروحانی ترقی کا دروازہ کھلا رہتا ہے مگر اس وقت صرف بعض افراد ان درجات کو حاصل کر سکتے ہیں۔جیسے اُمت محمدیہ میں سید عبدالقادر صاحب جیلانی، حضرت معین الدین صاحب چشتی اور دوسرے اکابر گذرے