انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 136

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت ہوں کہ چین اور جاپان اور دوسرے ممالک کے کس کس حصہ میں کون کون سی صنعت ہوتی ہے تا کہ ہم اپنی جماعت کے تاجروں یا ان لوگوں کو جو تجارت پیشہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ، ان علاقوں میں پھیلا دیں۔اس کے متعلق بہت سی لطیف معلومات کا ذخیرہ جمع ہو رہا ہے۔جو دوست تجارت کے متعلق کوئی مشورہ لینا چاہیں وہ مشورہ کر لیں۔جب موقع آئے گا انہیں کسی موزوں علاقہ میں تجارت کیلئے بھیج دیا جائے گا۔اور اگر معلوم ہوگا کہ وہ دیانتداری سے کام کرنے والے ہیں تو شروع میں ایک قلیل رقم بطور امداد بھی دی جا سکے گی۔مگر شرط یہ ہے کہ اس کے پاس کچھ جائیداد ہو جس کی ضمانت پر اسے روپیہ دیا جاسکے۔تا اگر کوئی روپیہ کھا جائے تو اس کی واپسی کا انتظام ہو سکے اور دوسری شرط یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں کی رقم کا مطالبہ نہ ہو۔پس دوستوں کو یہ امر مدنظر رکھنا چاہئے کہ جن حالات میں سے سلسلہ اس وقت گزر رہا ہے، ان کے ماتحت خاص ہوشیاری کی ضرورت ہے۔اپنے منہ میاں مٹھو بننا بُری بات ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ تمام باتیں سکھائی ہیں، اس لئے میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ اگر کسی حکمران قوم کو یہ باتیں بتائی جاتیں تو اس میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک قوت عملیہ کی لہر دوڑ جاتی۔لیکن چونکہ ہماری قوم ایک عرصہ سے محکوم چلی آ رہی ہے اور زندگی کی روح اس میں نہیں رہی، اس لئے اس کے بہت سے افراد میں اس سکیم کی اہمیت اور اس کی باریکیوں کو سمجھنے کی اہلیت نہیں ہے۔اگر تمام جماعت اس سکیم کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد کو سمجھ جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے۔یا درکھو جو باتیں میں نے جماعت کی ترقی کیلئے پیش کی ہیں، وہ نہ ہٹلر کی سکیموں میں ہیں نہ مسولینی کی سکیموں میں۔میں نے ہٹلر کی سکیموں کو بھی دیکھا ہے اور مسولینی کی سکیموں کو بھی لیکن ان کی سکیمیں تباہی کے سامان اپنے اندر رکھتی ہیں۔مگر جو سکیم میں نے تمہیں بتائی ہے وہ نہ صرف تباہی کے سامانوں سے خالی ہے بلکہ ترقی کے انتہاء تک تمہیں پہنچانے والی ہے کیونکہ میں نے ان باتوں کو خدا تعالیٰ سے اور قرآن مجید کے احکام سے حاصل کیا۔پھر میں نے اپنی سکیم کو مغربی اثر سے آزا در کھنے کی کوشش کی ہے۔مگر وہ اپنی سکیموں کو مغربی اثر سے آزاد نہیں کر سکے۔اتنے بڑے فضل کے ہونے کے باوجود کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو آپ کے امام کے ذریعہ وہ باتیں بتائیں جو دنیا میں اور کسی جگہ حاصل نہیں ہو سکتیں۔اگر پھر بھی آپ لوگ قربانیاں نہ کریں تو یہ اتنی بڑی غفلت اور کوتا ہی ہو گی جس پر نہ صرف آپ بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی افسوس