انوارالعلوم (جلد 13) — Page 95
انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۵ میری ساره نکالنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔عورتوں کیلئے بے شک انگریزی کی تعلیم اس وقت تک ضروری ہے جس وقت تک کہ اردو یا عربی ہم لوگوں کو دنیا میں تبلیغ کرنے کے قابل نہیں بنا سکتی اس وقت تک بے شک انگریزی کی تعلیم عورتوں کیلئے مفید ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ضروری ہے لیکن ایسی ہی تعلیم جس میں انگریزی بولنے کی قابلیت جو اصل مقصود ہے، حاصل ہوتی ہو۔یا ایک محدود تعداد کیلئے ایسی تعلیم جس کے ذریعہ سے ڈاکٹری وغیرہ کی قسم کے پیشے یا جماعت کی تعلیمی ضروریات پوری ہو سکیں اس سے زیادہ انہماک جماعت کے اخلاق اور اسلامی تمدن کیلئے سخت مضر اور مُہلک ثابت ہو گا۔غرضیکہ ایک میرا مقصد یہ ہے کہ میں بتاؤں کہ میں جو تعلیم دلاتا رہا ہوں ، اُس کا مقصد دنیا طلبی کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا نہیں بلکہ تبلیغ کے ذرائع کو وسیع کرنا اور عورتوں کے خیالات کو تعلیم کی روشنی سے منور کرنا ہے۔پس اگر جہالت کی تاریکی کی جگہ الحاد کی تاریکی نے لے لی تو میرا مقصد ہرگز پورا نہ ہوگا بلکہ الٹا جماعت کو نقصان ہوگا۔میں جانتا ہوں کہ میرے ارادے زمانہ کی ہوا کے خلاف ہیں اور خود ہماری جماعت کے لوگوں میں سے ایک طبقہ یقیناً اس کی مخالفت کرے گا۔گو وہ خاموش مخالفت ہوگی نہ کہ نمایاں اور لفظی لیکن میں ان باتوں سے نہیں ڈرتا۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت اسلام کیلئے سب سے زیادہ زبر دست قلعه عورتوں کے دماغوں میں بنایا جاسکتا ہے اور اس قلعہ کی تعمیر اسی صورت میں ممکن ہے کہ عورتوں کی تعلیم کی سکیم پورے طور پر اپنی دینی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر بنائی جائے اور انہیں اس قابل کر دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں اور بھائیوں کو اس مقام پر کھڑارکھیں جس پر سے ہٹانے کیلئے حوادث زمانہ کی آندھیاں اپنا پورا زور لگا رہی ہیں۔یہ کام بہت بڑا ہے اور میں ایک کمزور انسان ہوں لیکن میرا رب جس پر میرا بھروسہ ہے میری مدد کرے گا اور اندرونی اور بیروی مخالفتوں کو زائل کر کے مجھے یقیناً کامیاب کرے گا کیونکہ اسلام اُس کا دین ہے اور احمدیت اُس کے اپنے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا ہے۔پہلے کام کب میری لیاقت سے ہوئے کہ یہ کام میری لیاقت سے ہوگا۔میں تو اپنی زندگی کو دیکھتا ہوں تو اسے ایسی کامیابیوں کا مجموعہ پاتا ہوں جو انجام سے پہلے ہر ظاہر بین کی نظر میں ناکامیاں نظر آتی تھیں۔مجھے خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے انصار عطا فرمائے گا جو اس سکیم کو لے کر کھڑے ہو جائیں گے اور ایسی تأثیر عطا فرمائے گا جو دلوں کو مسخر کر لے گی یہاں تک کہ ہم اسلام کیلئے ایک قلعہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ایک ایسا قلعہ جس