انوارالعلوم (جلد 13) — Page 80
۸۰ انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره رفیع احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کیلئے دعا رحیم و کریم بادشاہ ٹو نے اس بچہ کے صبر کو تو دیکھا ہے اس کے صبر کو دیکھ کر میرا نفس شرمندہ ہے، تو اسے سنگدلی سے محفوظ رکھ ، تُو اِس کے اِن دبائے ہوئے جذبات کو مرنے سے محفوظ رکھ ، اگر اس جذبات کو دبانے کی کوشش میں اس کے جذبات مر جائیں ، اگر اس کا دل پتھر کی طرح ٹھنڈا اور سخت ہو جائے تو اے میرے رب ! یہ اس کی اس شاندار کوشش کا ایک بُر ابدلہ ہوگا۔پس اے رحیم خدا! گوجذبات کی زندگی ایک موت ہے، ایک سوزش ہے جو ہر وقت انسان کو جلاتی رہتی ہے لیکن اے میرے رب! اِسی موت میں روح کی زندگی ہے اور جذبات کی موت گو بظاہر آرام اور سکون کا موجب ہے لیکن اس آرام اور سکون میں روح کی موت ہے۔پس اے میرے رب! میں تجھ سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ اس بچہ کے اس نیک فعل کو قبول کر اور اس کے جذبات کو مرنے نہ دے بلکہ ایک رحم کرنے والا دل اسے دے، ایک محبت کرنے والا دل اسے دے، ایک سوز سے پُر دل اسے دے، ہاں بظاہر دوزخ نظر آنے والی یہ تینوں چیزیں اسے دے تا کہ وہ تیری جنت کو حاصل کر سکے۔آمین۔يَا رَبَّ الْعَلَمِينَ۔یہ تو رفیع احمد کا حال تھا۔امتہ النصیر جو تین ساڑھے تین سالہ بچی کا صبر و استقلال تین سال کی عمر کی بچی ہے اور ہر وقت اپنی ماں کے پاس رہنے کے سبب سے بہت زیادہ ان سے مانوس تھی اپنے بھائی کے سمجھانے کے بعد وہ خاموش سی ہو گئی جیسے کوئی حیران ہوتا ہے۔وہ موت سے ناواقف تھی وہ موت کو صرف دوسروں سے سن کر سمجھ سکتی تھی۔نہ معلوم اس کے بھائی نے اسے کیا سمجھایا کہ وہ نہ روئی، نہ چینی ، نہ چلا ئی وہ خاموش پھرتی رہی اور جب سارہ بیگم کی نعش کو چار پائی پر رکھا گیا اور جماعت کی مستورات جو جمع ہو گئی تھیں، رونے لگیں تو کہنے لگی میری امّی تو سو رہی ہیں، یہ کیوں روتی ہیں؟ میری امی جب جاگیں گی تو میں ان سے کہوں گی کہ آپ سوئی تھیں اور عور تیں آپ کے سرہانے بیٹھ کر روتی تھیں۔جب میں سفر سے واپس آیا اور امتہ النصیر کو پیار کیا تو اُس کی آنکھیں پر نم تھیں لیکن وہ روئی نہیں۔اُس دن تک میں نے کبھی اُسے گلے نہیں لگایا تھا اُس دن پہلی دفعہ میں نے اُسے گلے لگا کر پیار کیا مگر وہ پھر بھی نہیں روئی حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اسے نہیں معلوم کہ موت کیا چیز ہے مگر نہیں یہ میری غلطی تھی یہ لڑکی مجھے ایک اور سبق دے رہی تھی۔سارہ بیگم دارالا نوار کے نئے مکان میں فوت ہوئیں جب ہم اپنے اصلی گھر دار مسیح میں واپس آئے تو معلوم ہوا اس کے پاؤں میں بوٹ