انوارالعلوم (جلد 13) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۳ 440 سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان میں محفوظ الحق علمی کو جانتا ہوں۔مجھے یاد نہیں کہ اسے نکالا گیا تھا۔اس کے خلاف شکایت پیدا ہوئی تھی اس لئے سلسلہ کی ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔اس کے بعد وہ کچھ دن رہا اور پھر چلا گیا۔میں محمد اسماعیل ولد حکیم قطب الدین صاحب کو جانتا ہوں۔اس کو جماعت احمدیہ سے نکالا گیا ہے۔ہمارا محکمہ جو امور عامہ ہے، اس نے میرے ایک قانون کی بناء پر اسے نکالا۔میں امید کرتا ہوں کہ اس کے ماں باپ اور بہن کو جو احمدی ہیں، اس سے تعلقات نہیں رکھنے چاہیں تھے۔شاہ عالم کو بھی جماعت سے نکالا گیا تھا۔جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ قادیان سے باہر نہیں گیا نہ محمد اسماعیل باہر گیا۔مجھے یاد نہیں کہ گل نورکو جماعت سے خارج کیا گیا ہو۔وہ اب قادیان میں ہی ہے، مجھے معلوم نہیں۔ابراہیم علی کو بید مارے گئے۔بید مارنے کی سزا ہم کسی کو نہیں دیتے۔یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے سکولوں میں سزا ملتی ہے ہاتھوں پر سوٹیاں ماری گئی ہوں۔میں عبد السلام ولد ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو جانتا ہوں۔مجھے یہ یاد ہے کہ اس کیلئے کوئی سزا تجویز کی گئی تھی۔یہ یاد نہیں کہ وہ سزا کیا تھی۔یقینی طور پر تو نہیں کہہ سکتا۔لیکن بہت ممکن ہے کہ اس کے باپ کو کہا گیا ہو کہ وہ اسے سزا دے۔اور ممکن ہے اسے سزا نہ ملی ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس لڑکے کے باپ کو کہا گیا ہو کہ اگر لڑکے کی والدہ اس کو منع کرتی ہے کہ جو سزا اس کی اصلاح کیلئے تجویز کی گئی ہے وہ نہ لے تو آپ اس سے تعلق نہ رکھیں۔یاد تازہ کئے بغیر نہیں کہہ سکتا کہ ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو اس لئے ۲۵ روپے جرمانہ کیا گیا کہ تمہارا لڑکا سزا نہیں پاتا اور تم سزا دلانے کے لئے تیار نہیں۔جس کو اخراج کی سزا ملی ہو اس سے تعلقات نہ رکھنے کے لئے کہنا میرا کام نہیں۔ایسے امور امور عامہ کے متعلق ہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ ناظر امور عامہ نے دوسری عورتوں کو ڈاکٹر عبداللہ صاحب کی عورت سے نہ ملنے کا حکم دیا۔قادیان سے کسی کو چلے جانے کے لئے کہنا میرے سامنے پیش ہوتا ہے۔آگے اس کے نتیجہ میں جو تفصیلات پیدا ہوں وہ امور عامہ سے تعلق رکھتی ہیں۔