انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 426

426 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں۔دوسرے مسلمانوں کے متعلق میں کیا کہ سکتا ہوں۔سوال: دوسرے مسلمانوں کے متعلق پتہ ہے کہ محمد صاحب کے متعلق ان کا کیا عقیدہ ہے۔جواب: کچھ ایسے بھی ہیں جو پروا نہیں کرتے اور ایسے بھی ہیں جو ز بر دست عقیدت رکھتے ہیں۔سوال: کیا یہ درست ہے کہ آپ محمد صاحب کی عزت برقرار رکھنے کیلئے تیار ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے۔جواب: بے شک میں برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اُس سے لڑ پڑوں گا بلکہ میرے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بُرا کہے گا۔سوال: جو یہ کہے کہ میں اسلام میں داخل ہوں مگر محمد صاحب کو آخری نبی نہیں مانتا اور تمام رسولوں سے بڑھ کر نہیں مانتا اُسے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ جواب: میرے نزدیک مسلمان ہو کر جو یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل تھے وہ غلطی کرتا اور اسلام کے خلاف کہتا ہے اور میرے نزدیک جو مسلمان یہ تسلیم نہیں کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت قیامت تک جاری ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ کی نبوت ختم ہو کر اور نبوت کی ضرورت ہے وہ غلطی کرتا ہے۔سوال: آپ نے ایک طرف تو کہا کہ جو مسلمان یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ محمد صاحب آخری نبی نہ تھے اور دوسرے انبیاء سے بڑھ کر نہیں مانتا وہ غلطی کرتا ہے اور دوسری طرف کہا جو نبوت ختم سمجھتا ہے وہ اسلام کے خلاف کرتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ جواب: آخر سے کہتے ہیں جو بعد میں آئے جواند رہی ہو وہ بعد نہیں کہلاتا۔سوال: آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد صاحب کے بعد نبی آ سکتا ہے مگر دوسرے مسلمان کہتے ہیں کہ کوئی نبی نہیں آ سکتا۔جواب: ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے تابع ہے وہ بعد نہیں۔اور یہ درست نہیں کہ سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع کوئی نبی نہیں آ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جن کے متعلق آپ نے فرمایا کہ آدھا دین ان سے سیکھو وہ فرماتی ہیں۔قُولُوا خاتم النبيين ولا تقولوا لانبی بعدہ کے بے شک یہ تو کہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ