انوارالعلوم (جلد 13) — Page 391
391 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ہتک کرتے ہیں مگر اس الزام کے لگانے والوں کو یہ بھول جاتا ہے کہ وہ ایک حدیث پیش کیا کرتے ہیں کہ کوئی مولود نہیں خواہ مرد ہو خواہ عورت جسے شیطان نے نہ چھوا ہو سوائے حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے سے کیا ان کے اس حدیث کو پیش کرنے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ رسول کریم صلى الله کی والدہ اور والد اور خود رسول کریم اللہ پر اس طرح حملہ کرتے ہیں؟ اسی طرح وہ حضرت ابراہیم حضرت یعقوب، حضرت اسحاق اور دوسرے انبیاء کو بھی انہی میں شامل کر رہے ہیں جن کو شیطان نے چھوا ؟ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر یہ کہتے ہوئے تو ذرا نہیں شرماتے کہ رسول کریم کے باپ دادے اور آپ کی دادیاں نانیاں سب کو شیطان نے چھوا۔مگر جب مسیحی لوگ ان کی ان باتوں سے فائدہ اُٹھا کر حضرت مسیح کی نبی کریم ﷺ پر فضیلت ثابت کرتے ہیں، ہم اس کے خلاف کہتے اور ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی دادیوں اور نانیوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔یہ ہے ان کی غیرت کا حال۔پھر وہ امہات المؤمنین کو گالیاں دیتے ہیں اور آیت اِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا کے یہ معنی کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی بیویوں سے کہا گیا ہے تمہیں تو بہ کرنی چاہیئے تمہارے دل گندے ہو چکے ہیں۔ان کی تفسیروں میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی بیویوں کے دل گندے ہو گئے تھے کے لیکن ہم لوگ ان معنوں کے منکر ہیں۔ہمارے نزدیک امہات المؤمنین پاکباز ، پاک شعار اور تقویٰ کی اعلیٰ راہوں پر چلنے والی ہماری مقدس ما ئیں تھیں اور اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ اے ہمارے پیغمبر کی بیو یو! اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف جھکو تو یہ فعل تمہارے مقام کے عین شایانِ شان ہے کیونکہ تمہارے دل تو پہلے سے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف جھک رہے ہیں مگر باوجود اس کے یہ لوگ ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔پھر کوئی نبی نہیں جس کی انہوں نے ہتک نہ کی ہو ہر ایک کے خلاف ایسے ایسے گندے الزامات ان کی کتابوں میں موجود ہیں جنہیں کوئی شریف انسان سُن بھی نہیں سکتا۔اگر ہمارے خلاف ان کا یہی طریق عمل جاری رہا اور ہمیں ان کے لٹریچر کو شائع کرنا پڑا تو پھر گورنمنٹ کہے گی شائع نہ کرو اس سے فساد ہوتا ہے لیکن وہ ان لوگوں کو الزام لگانے سے نہیں روکتی۔پھر قادیان میں منافق بنائے جاتے ہیں۔اور بعض سرکاری افسران کو اپنے ساتھ لئے لئے پھرتے ہیں۔کسی کو انفارمر بنایا جاتا ہے کسی کی کرسی نشینی کی سفارش کی جاتی ہے۔گویا افسر چاہتے ہیں کہ ہم میں تفرقہ پیدا کر کے تماشہ دیکھیں۔ہمارے لاہور کے غیر مبائع دوست کہا کرتے ہیں،