انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 367

انوار العلوم جلد ۱۳ 367 مستورات سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب فرموده ۲۷۔دسمبر ۱۹۳۴ء) حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہمارے ملک بلکہ تمام ملکوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عورتیں جو ہیں وہ طبعی طور پر اور فطری طور پر کوئی بڑا کام کرنے کی اہل نہیں تو عورتوں کو چاہئے تھا کہ وہ بڑے کام کر کے ان کے اس خیال کو غلط ثابت کرتیں لیکن بر خلاف اس کے وہ بھی اس پر قانع ہو گئیں۔کیا واقعی وہ کسی بڑے کام کی اہل نہیں ؟ اور کیا اس کی بڑی بھاری وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں فرمایا کہ دوزخ میں میں نے بہت سی عورتیں دیکھیں بوجہ احسان فراموش ہونے اور بوجہ ناقص العقل اور بوجہ ناقص الدین ہونے کے لے حضور کا یہ فرمانا تو عورتوں کو اُن کے نفس سے آگاہ کرنے کیلئے تھا کہ دیکھو تمہارے یہ نقص تم کو دوزخ میں لے جانے کے محرک ہیں، احسان کی قدر نہ کرنا یہ فطرت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ عادت ہے دیکھو اگر ایک چور چوری کرتا ہے تو چوری اُس کی فطرت نہیں بلکہ عادت ہے، اگر عورتوں کی عادت احسان فراموشی کرنا ہے تو یہ عادت جو ہے وہ بدلی جاسکتی ہے لیکن اس وقت کے جاہل علماء نے عورتوں کو بجائے یہ بتانے کے کہ تم میں یہ عادات خراب ہیں ان کو چھوڑ دو ان کو یہ بتلایا کہ تمہاری فطرت ہی ایسی ہے کہ تم اس کو چھوڑ ہی نہیں سکتیں اور عورتوں نے بھی کہہ دیا کہ اچھا ایسا ہی سہی۔پس جب طبیعت کسی بیماری کا علاج نہ کرے اور مریض تسلی پا جائے تو پھر نتیجہ ہلاکت ہی ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ اللہ وسلم نے یہ فرما کر کہ عورتیں بوجہ اس کے دوزخ میں جائیں گی کہ وہ احسان فراموش ہیں، ناقص ہیں دین میں اور ناقص ہیں عقل میں ان کو غیرت دلائی کہ تم ان عادتوں کو چھوڑ دو تو جنت میں