انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 357

357 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد عظیم الشان نام دینے کو تیار نہیں ہوتے نتیجہ یہ ہوا کہ جب بانی سلسلہ احمدیہ نے اس دعوی کو پیش کیا تو سب فرقوں کی طرف سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور آپ کو معجزات کا منکر اور نبوت کا منکر اور قدرت الہی کا منکر اور مسیح ناصری کی بہتک کرنے والا اور نہ معلوم کیا کیا کچھ قرار دیا گیا۔اس واقعہ کو صرف سنتالیس سال کا عرصہ ہوا اور ان تماشوں کو دیکھنے والے لاکھوں آدمی اب بھی موجود ہیں۔ان سے دریافت کریں اگر آپ اس وقت پیدا نہ ہوئے تھے یا بچے تھے اور پھر سوچیں کہ مسلمانوں کے دل پر اس عقیدہ کا کتنا گہرا اثر تھا۔بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے اعلان وفات مسیح سے وہ یوں معلوم کرتے تھے کہ گویا ان کا آخری سہارا چھین لیا گیا ہے لیکن آپ نے اس مخالفت کی پرواہ نہ کی اور برابر قرآن کریم ، حدیث اور عقل سے اپنے دعویٰ کو ثابت کرتے چلے گئے۔آپ نے ثابت کیا کہ:۔(۱) قرآن کریم کی نصوص صریحہ مسیح علیہ السلام کو وفات یافتہ قرار دیتی ہیں مثلاً وہ مکالمہ جو قیامت کے دن حضرت مسیح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوگا اور جس کا ذکر قرآن کریم میں سورۃ مائدہ میں ہے صاف بتاتا ہے کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے مشرک نہیں بنے۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ سمجھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی لوگ ابھی حق پر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت ہی نہیں پیدا ہوئی۔(۲) احادیث میں صریح طور پر لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ہمارے آقاسید دو جہان سے دو گئی تھی سے پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ سمجھا جائے تو حضرت عیسی کی عمر اس وقت تک بھی تھیں گئے تک پہنچ جاتی ہے اور نہ معلوم آئندہ کس قدر فرق بڑھتا چلا جائے۔(۳) اگر حضرت مسیح علیہ السلام واپس تشریف لاویں تو اس سے ختم رسالت کا انکار کرنا پڑتا ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نبوت کا مقام پاچکے تھے اور آپ کا پھر دوبارہ آنا ظاہر کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ختم ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت سے دنیا آخری استفادہ کرے گی۔(۴) اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہونگے تو اس میں حضرت مسیح کی ہتک ہے کہ وہ نبوت مستقلہ کے مقام سے معزول ہو کر ایک امتی کی حیثیت سے نازل کئے جائیں گے۔(۵) اسی عقیدہ سے امت محمدیہ کی بھی ہنک ہے کہ پہلی امتیں تو اپنے اپنے زمانہ میں اپنے قومی