انوارالعلوم (جلد 13) — Page 345
345 انوار العلوم جلد ۳ حکومت پنجاب اور جماعت احمد یہ حکومت پنجاب کی ان تسلی بخش چٹھیوں کے علاوہ نائب وزیر ہند صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب درد امام مسجد احمد یہ لنڈن کو جنہیں میں نے اس معاملہ میں حکومت برطانیہ کو توجہ دلانے کے لئے مقرر کیا تھا، ایک خط کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اور اس کے افسروں نے اس معاملہ میں جو کچھ بھی کیا ہے اُس کے کرتے وقت اُن کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے جماعت احمدیہ کے جذبات کو جس کی وفاداری پورے طور پر مسلم ہے کسی طرح ٹھیس لگے اور انہوں نے درد صاحب کو اس خط میں یہ یقین بھی دلایا ہے کہ حکومت کے اس فعل میں قطعاً کوئی غرض یا نیت نہ تھی کہ جماعت احمدیہ کی کسی قسم کی تحقیر ہو۔یا اس کے امام کے احترام میں کسی قسم کا فرق آئے۔حکومت پنجاب کی ان چٹھیوں اور نائب وزیر ہند صاحب کے اس خط کی بناء پر میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میرے خطبات کے اس حصہ کو جو حکومتِ پنجاب کے فعل کے خلاف احتجاج کے طور پر تھا اب طے شدہ سمجھا جائے۔اس اعلان کے ساتھ ہی میں اس امر پر بھی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اور انگلستان میں بہت سے انگریز افسروں اور سابق گورنروں نے اس موقع پر ہم سے نہایت ہمدردی کا برتاؤ کیا ہے اور بعض نے پوری امداد کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے جذبات اور اخلاص کا بڑے زور سے اظہار کیا ہے۔مندرجہ بالا اعلان سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ جن مقامی حکام نے نا واجب کا رروائیاں کی ہیں ان کو یا جو اعتراض ہمیں پنجاب کریمنل لاء امنڈ منٹ ایکٹ ۱۹۳۲ء کے دائرہ استعمال پر ہے اس کو بھی طے شدہ سمجھا جائے گا۔لیکن یہ امور ایسے ہیں جیسا کہ میں اپنے ایک خطبہ میں کہہ چکا ہوں کہ انہیں یا تو پرائیوٹ طور پر حکومت کے ساتھ یا کونسلوں کے ذریعہ سے بھی طے کیا جاسکتا ہے اس لئے ہمیں ان امور کے متعلق خاص نظام کے ماتحت جدوجہد کی ضرورت نہیں۔اصل سوال جس کے لئے جماعت کو فکر تھی یہی تھا کہ امام جماعت احمدیہ کو خواہ مخواہ دق کیا جائے اور جماعت کے افسروں یا افراد کے افعال کو اس کی طرف منسوب کر کے اس کے کام میں روک ڈالی جائے اور چونکہ یہ امر صفائی سے طے ہو گیا ہے اس لئے باقی امور کے متعلق جماعت کو سر دست کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔بعض جماعتیں حکومت کے پاس اظہار ناراضی کے ریزولیوشن بھجوا رہی ہیں انہیں بھی