انوارالعلوم (جلد 13) — Page 261
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۶۱ احمدیت کے اصول کی یہ حالت تھی اور اس کی طرف ان کی کوئی توجہ نہ تھی۔حالانکہ قرآن ہی تمام علوم کا جامع ہے اور اسی سے سب مسائل حل ہو سکتے ہیں۔کسی قسم کا اعتراض ہو کوئی وسوسہ پیش کر ؤ قرآن میں اس کا جواب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُه ١٢ یعنی ہم نے چونکہ انسان کو پیدا کیا ہے۔ہم خوب جانتے ہیں جو وسوسہ بھی اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔یہ وقت نہیں کہ میں اس مسئلہ پر وضاحت سے روشنی ڈال سکوں۔مگر یہ میرا دعویٰ ہے کہ کسی علم والا میرے سامنے آئے اور کہے یہ مذہبی مسئلہ قرآن سے نکال دو۔میں اِنشَاءَ اللہ وہ بھی اور اس کا جواب بھی نکال دوں گا۔پس احمدیت کے یہی اصول ہیں اور حضرت مرزا ہمدردانہ اور نیک مشورہ صاحب نے یہی دنیا کے سامنے پیش کئے اور آپ کی جماعت بھی یہی پیش کرتی ہے۔اس نور ہدایت پر غور کرو اور دیکھو کہ قرآن زندہ ہو کر آپ کے مریدوں کے ہاتھوں میں بولتا ہے یا نہیں۔دوسروں کو اس کے حل کرنے کیلئے اور کتابوں کی ضرورت ہے۔مگر ہمارے ہاتھوں میں یہ خود بولتا ہے اور یہ ایسی بات ہے کہ جو اس کیلئے بچی جستجو کرے حاصل کر سکتا ہے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۱۵ پس بجائے اس کے کہ احمدیوں کو گالیاں دی جائیں، کیوں نہ خدا تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ جو رستہ سچ ہے وہ ہمیں بتا دے اگر احمدیت حق ہے تو اسے قبول کرنے کی توفیق دے وگر نہ اس سے بچالے۔نہ ہماری مانو! اور نہ کسی مولوی کی بلکہ خدا سے کہو! کہ تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری ہدایت کے لئے پیدا کیا، قرآن کو نازل کیا، مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق کس طرف ہے۔اس لئے ہم اپنے آپ کو تیرے سامنے ڈالتے ہیں اور عبودیت اور تذلل کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ جو حق ہے، ہم پر کھول دے اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں یہ بات ڈال دے کہ احمدیت سچ ہے تو اسے مان لو۔مطبوعه باراول دسمبر ۱۹۳۴ ء۔قادیان) 1 الجمعة: اتام البقرة : ١٣٠