انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 245

انوار العلوم جلد ۳ ۲۴۵ احمدیت کے اصول سامنے اپنا سر اونچا کر سکے۔سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اسلام کی صحیح صورت دنیا میں پیش کرنے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔اب اگر یہ چاروں باتیں وہ اپنے اندر ثابت کر دے تو ماننا پڑے گا کہ اس نے جو کچھ کہا اور جو دعویٰ کیا، اس میں سچا ہے۔جیسے میں نے تصویر کی مثال دی تھی کہ مصور کا کمال اسی میں ہے کہ اصل سے سر موفرق نہ ہو۔اگر ایک عیسائی یا ہندو اسلام کی خوبی کا قائل نہیں تو وہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام کی تصویر جو کھینچی گئی ہے وہ خوبصورت نہیں مگر یہ تو اسے ماننا پڑے گا کہ قرآن میں جو کچھ ہے اس کی یہ صیح تصویر ہے۔پس اگر یہ چار کام سلسلہ احمدیہ نے شروع کر رکھے ہیں تو اسلام کے ماننے والوں کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ اپنے دعوئی میں سچا ہے اور ہر مسلمان کی توجہ کا مستحق ہے اور غیر مسلموں کو بھی ماننا پڑے گا کہ احمدیت نے جو دعویٰ کیا اسے سچا ثابت کر دکھایا۔تمہیدی مسائل اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے احمدیوں اور غیر احمد یوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات یا مرزا صاحب کو مسیح موعود مانے یا نہ ماننے کا ہی فرق ہے حالانکہ یہ تمہیدی باتیں ہیں۔اگر ہم یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ حضرت مسیح ناصری وفات پاگئے تو محض اس لئے کہ قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام سے ثابت کریں کہ آپ کی اُمت میں سے ہی ایک شخص آئے گا۔جو مثیل مسیح ہو گا۔یہ گویا سڑک بنانے کیلئے ہے وگر نہ اصل چیز تو آنے والے کا کام اور مقصد ہونا چاہئے۔وفات مسیح علیہ السلام اور صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے مسائل تو محض تمہیدی باتیں ہیں اور آپ کے دعوی کو ثابت کرنے کیلئے یہ ضروری قدم ہیں جو اُٹھائے گئے۔وگر نہ کام آپ کے بھی وہی چار ہیں جن کا میں نے پہلے حضرت مسیح موعود کے کام ذکر کیا ہے۔چنانچہ دوسری آیت میں بیان کیا گیا ہے۔وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ جو چار کام بیان کئے گئے ہیں، وہ اسی زمانہ کے لئے نہیں بلکہ جس طرح اس زمانہ کی قوموں کی اصلاح کیلئے آپ مبعوث ہوئے ہیں، اسی طرح آئندہ زمانہ میں آئندہ آنے والی قوموں میں بھی آپ یہ کام کریں گے اور جب ان کے لئے ضرورت ہوگی کہ ان کو بھی قرآن سکھایا جائے ان کا تزکیہ کیا جائے ان پر تلاوت آیات کی جائے اور ان کو حکمت سکھائی جائے تو اس وقت ان