انوارالعلوم (جلد 13) — Page 221
۲۲۱ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور ہے۔اس وقت یہاں پنجاب کونسل کے دومبر بیٹھے ہیں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے انہوں نے کونسل میں زمینداروں کے متعلق وہ کوشش نہیں کی جو انہیں کرنی چاہئے تھی۔زمینداروں کی تباہی کا سوال ایسا سوال ہے کہ اس کے متعلق حکومت سے خوب لڑنا جھگڑنا چاہیئے اور اس پر ملک کی اصل حقیقت اچھی طرح واضح کر دینی چاہیئے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ حکومت پر اگر اصل حقیقت واضح ہوتو وہ پورا زور اس کی اصلاح کے لئے نہ لگائے گی۔انگریز قوم علاوہ دیانت دار ہونے کے کاروباری بھی ہے اور وقت کی ضرورت کو خوب پہچانتی ہے۔پس اگر حکومت پر بار بار زور ڈالا جائے اور زمینداروں کی حالت کو ان پر واضح کیا جائے تو ضرور اثر ہوگا۔پس کم سے کم ہمارے احمدی ممبران کونسل و اسمبلی وغیرہ کو اس طرف توجہ کرنی چاہیئے اور اُس وقت تک دم نہیں لینا چاہیئے جب تک غریب زمینداروں کی حالت کی درستی کا انتظام نہ ہو جائے۔یادرکھنا چاہیئے کہ مالیہ میں سے چند روپے گھٹا دینے سے کچھ نہیں بن سکتا جب تک اجناس کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں اور فروخت اشیاء کے لئے نئی منڈیاں نہ نکالی جائیں اُس وقت تک زمینداروں کی حالت کبھی درست نہ ہو گی۔یہ سوال نہایت اہم ہے اور ہماری جماعت کے ممبران کونسل کو اس بارے میں دوسروں سے مشورہ کر کے یہ کام شروع کر دینا چاہیئے اور حکومت پر زور دنیا چاہیئے کہ وہ زمینداروں کے متعلق جلد توجہ کرے۔ورنہ اگر یہی حالت رہی جواب ہے تو کوئی عجب نہیں کہ دو تین سال کے بعد بالشویک خیالات پھیل کر زمینداروں کا ایک طبقہ بغاوت کا رنگ اختیار کر لے جیسا کہ اُس ایڈریس سے بُو آتی ہے جو ریٹائرڈ فوجی افسروں نے حال ہی میں ہمارےصوبہ کے گورنر صاحب بہادر کوغالبا شیخو پورہ ضلع میں دیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اجناس کی ارزانی کی وجہ سے زمینداروں کی حالت ایسی گر گئی ہے کہ بہت سے ان میں سے مالیہ کی ادائیگی کے لئے زیوروں اور برتنوں اور دیگر اشیاء کے فروخت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اب وہ بالکل تہی دست ہو رہے ہیں۔اگر اجناس کی قیمت فوراً نہ بڑھی اور معقول حد تک نہ بڑھی تو ڈر ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتے، انکی طرف سے شورش نہ پیدا ہو جائے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ملک اور حکومت دونوں کے لئے سخت نقصان دہ ہو گا اور ملک کی ترقی بہت پیچھے جا پڑے گی۔جہاں تک میرا خیال ہے اگر ہندوستان کے زمینداروں کی حالت ایسی گری ہوئی نہ ہو تو بالشویک پرو پیگنڈا یہاں جڑ نہیں پکڑ سکتا۔پس ممبران کو نسل کو چاہیئے کہ رات دن ایک کر کے حکومت کو اس خطرہ سے آگاہ کریں اور اسے زمینداروں کی حالت کی طرف متواتر توجہ دلائیں۔حکومت کی یہی خیر خواہی