انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 220

۲۲۰ انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور والے کیوں نہ ان کی طرح دین میں ترقی کر سکیں۔بیعت کرنے کے چھ ماہ بعد جب میں نے ان کی شکل دیکھی تو میں انہیں پہچان نہ سکا کیونکہ ان کی شکل سے ایسا اخلاص اور ایسی دینداری ظاہر ہوتی تھی گویا کہ وہ پرانے احمدی ہیں۔اسی طرح چودھری محمد شریف صاحب وکیل، مرزا عبدالق صاحب وکیل، میاں عطاء اللہ صاحب وکیل چودھری عبداللہ خان صاحب برادر چودھری ظفر اللہ خان صاحب قاضی پروفیسر محمد اسلم صاحب ڈاکٹر محمد منیر صاحب، عبدالرحمن صاحب خادم بشرطیکہ نفس پر قابو رکھیں، چودھری خلیل الرحمن صاحب بنگال اور اسی طرح اور کئی نوجوان ہیں جن کے اندر سلسلہ کی خدمت اور روحانی ترقی کا جوش ہے۔بعض نسلی احمدی ہیں، بعض نئے احمدی ہیں اور ان نو جوانوں کی حالت دوسرے نوجوانوں کے لئے نیک نمونہ بن سکتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان لوگوں نے صحیح طریق پر ترقی جاری رکھی تو رویا اور کشوف سے بھی حصہ پاسکیں گے۔تمام احمد یوں کو کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کی اولاد میں روحانیت پائی جائے اور ہمارے نو جوان روحانیت کا اعلیٰ نمونہ پیش کریں کہ اصل چیز یہی ہے۔ورنہ علمی بحثوں نے مولویوں کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور نہ یہ بخشیں ہمیں کوئی فائدہ دے سکتی ہیں۔نے مبلغ جو پیدا ہو رہے ہیں، ان میں بھی اچھے نوجوان نکل رہے ہیں۔مولوی محمد سلیم صاحب ایک اچھے مبلغ ہیں، مولوی مبارک احمد صاحب کی قابلیت اس سے پہلے معلوم نہ تھی اب ظاہر ہو رہی ہے۔ہماری جماعت میں ایک صاحب تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں وہ مبلغین کے متعلق نکتہ چینی کیا کرتے تھے حتی کہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے متعلق بھی نکتہ چینی کر دیتے تھے۔اب کے وہ مجھے ملنے کے لئے پالم پور گئے تو کہنے لگے میں نے اپنی جماعت میں مبارک احمد ایک مبلغ دیکھا ہے جو بہت قابل ہے۔میں نے کہا شکر ہے آپ کو ایک قابل مبلغ تو مل گیا۔ایک ور مبلغ شیخ عبد القادر صاحب ہیں وہ ہندوؤں میں سے آئے ہیں اور اب مسلمانوں کے مولوی ہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ان کی تحریر کا رنگ اچھا ہے۔غرض نئے مبلغ نکل رہے ہیں اور اچھے اچھے نکل رہے ہیں۔امید ہے کہ جماعت کو مبلغوں کے نہ ملنے کی جو شکائتیں رہتی ہیں، وہ کسی حد تک دور ہو جائیں گی۔گو ان کا حلیہ دور ہونا مشکل ہے کیونکہ ابھی مبلغ اس قدر نہیں ہیں کہ ہر جماعت کی شکایت دور کی جا سکے۔باقی روپیہ کا سوال ہے۔مالی لحاظ سے دنیا پر ایسی تباہی آئی ہوئی ہے کہ اس کا اندازہ نہیں لگا یا جا سکتا۔زمیندار اس قدر کچلے اور مسلے جاچکے ہیں کہ ان کی حالت نہایت ہی قابلِ رحم ہوگئی