انوارالعلوم (جلد 13) — Page 209
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۰۹ اہم اور ضروری امور مشورہ دے سکیں کہ جلسہ انہی ایام میں ہو یا ان ایام کو بدل دیا جائے۔جہاں تک لیکچراروں کا تعلق ہے رمضان میں اتنے لمبے لیکچر نہیں دیئے جاسکتے جتنے رمضان کے علاوہ کسی اور موقع پر دیئے جا سکتے ہیں۔آج تو یہ اتفاقی بات ہے کہ بیمار ہونے کی وجہ سے میں نے روزہ نہیں رکھا۔لیکن اگر مجھے روزہ ہوتا۔(اور مومن کی یہی خواہش ہونی چاہئے کہ وہ سارے روزے رکھ سکے ) تو بہت جلد گلا پڑ جاتا۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں رمضان میں سالانہ جلسہ ہوا لیکن آپ کے ان ایام اور آج کے ایام میں بہت بڑا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ ہوا اس میں اتنے آدمی شریک ہوئے جتنے آج سٹیج پر بیٹھے ہیں اور اتنے آدمیوں کو انسان کرسی پر بیٹھ کر بھی لیکچر سنا سکتا ہے مگر اتنے عظیم الشان ہجوم کے سامنے بولنا جتنا کہ آج ہے، میرے لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میں گلے سے چھیچھڑے نکال نکال کر پھینک رہا ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے اب اس قدر ترقی حاصل ہو چکی ہے کہ دشمن تو حیران ہے ہی، ہم خود بھی حیران ہیں۔پس رمضان میں جلسہ کرنے کی وجہ سے ایک مشکل یہ ہے کہ پندرہ بیس ہزار کے اجتماع کو روزہ رکھ کر کس طرح سنایا جائے۔پھر دوستوں نے دوران لیکچر میں چائے کی پیالی پر پیالی سامنے رکھ رکھ کر کچھ ایسی عادت ڈال دی ہے کہ لیکچر دیتے ہوئے گلا چاہتا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گرم پانی اس میں سے گزر جائے۔آج کے لیکچروں کے متعلق بھی شکایت پہنچی ہے کہ ایک لیکچرار کا گلا پڑ گیا تھا حالانکہ اس کا لیکچر صرف ایک گھنٹہ تھا اور مجھے تو چار پانچ گھنٹے اور عورتوں میں جو تقریر کی جاتی ہے اسے ملا کر چھ سات گھنٹے بولنا ہوتا ہے۔پس یہ ایک اہم سوال ہے جس پر غور کرنا چاہئے۔مجلس شوریٰ میں کثرت رائے اس طرف تھی کہ جلسہ رمضان میں ہی ہو۔میں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا تھا۔اُس وقت میرے سامنے سب سے بڑی دلیل یہی تھی کہ میں تقریر نہیں کر سکوں گا۔رمضان میں روزہ رکھ کر خطبہ جمعہ کرنے سے بھی میرا گلا پڑ جاتا ہے۔پس یہ قابل غور امر ہے جلسہ کے موقع پر رات کو تقریریں ہوں ، مصر میں ایسا ہی کرتے ہیں رمضان میں رات کو جاگ کر کام کاج کرتے اور دن کو سوئے رہتے ہیں۔یا تو اس طرح کام کیا جائے یا پھر زیادہ سے زیادہ گھنٹہ بھر کی تقریر ہو اس سے زیادہ نہ ہو۔یہ اہم بات ہے دوست اسے مدنظر رکھیں۔کچھ اور بھی تکالیف ہیں مثلا رمضان کی وجہ سے کام کرنے والوں کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔انہیں دن میں چار چار بار کھانا کھلانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔