انوارالعلوم (جلد 13) — Page 199
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹۹ مستورات سے خطاب پیدا کرنی ہے مگر عورت کو ریاضی کے سوال حل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ علم نہیں یہ جہالت ہے۔عورتوں کا کام ہے گھر کا انتظام اور بچوں کی پرورش مگر لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ دوسرے کی چیز کو اچھی جانتے ہیں اور اپنی شے پسند نہیں کرتے اس لئے یورپ کی عورتوں کی ریس کر کے ہماری مسلمان قوم اپنی لڑکیوں کو ڈگریاں دلانا چاہتی ہے حالانکہ عورت گھر کی سلطنت کی ایک مالکہ ہے اور ایک فوجی محکمہ کی گویا آفیسر ہے کیونکہ اس نے پرورش اولا د کرنی ہے۔عورتیں سمجھتی ہیں کہ مردوں کے کام شاید زیادہ سہولت اور عزت کے ہیں اور کالجوں میں پڑھنا اور ڈگری پانا کوئی آسان امر ہے اور یہ اعزاز کا موجب ہے۔لیکن اگر عورتوں نے مردوں کا کام لے لیا اور مردوں نے عورتوں کا تو یہ ایک ذلت ہوگی۔کوئی زمانہ تھا کہ لکھنو میں شاعر بھی زنانہ پن سے شعر کہنے لگے اور عورتوں کی زبان اختیار کی مگر دیکھو اودھ کے بادشاہ جب نسوانی باتیں سیکھنے لگے تو سلطنت کھو دی۔ہندوستان کے مسلمانوں کے بچے اس لئے خراب ہیں کہ مائیں نالائق ہیں۔ان کو تربیت نہیں آتی۔میں ولایت گیا تو جہاز پر ایک انگریزی طرز رہائش کا ہندوستانی تعلیم یافتہ دیکھا جو بالکل یورپ کا تمدن رکھتا تھا۔حتی کہ اپنی ہندوستانی زبان کا ایک لفظ بھی اُسے نہ آتا تھا۔تو یہ ہے ڈگریاں پانے کا نتیجہ۔گویا وہ ہندوستان سے ایک طرح بالکل الگ ہو گیا۔تو ہمارے ملک میں اگر کسی کو کھانے پینے کو مل جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں دوسروں سے الگ ہوں۔انگریزوں کے ملک میں یہ دستور نہیں کیونکہ وہ لوگ علم سے فائدہ اُٹھاتے ہیں نہ کہ بجائے قوم کو فائدہ پہنچانے کے الگ رہ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔دیکھو ہماری سٹیج پر ہی یہ بات ہوئی ہے کہ لوگوں کو یہ فخر ہو گیا ہے کہ وہ حج کی بیوی یا بیرسٹر کی ماں یا ڈ پٹی کی بیوی ہیں اس لئے انہیں اونچی جگہ ملنی چاہئے حالانکہ ان کو یہ خیال رکھنا چاہئے تھا کہ فلاں بہن چونکہ پریذیڈنٹ ہے یا سیکرٹری ہے یا قومی کارکن ہے اس لئے ان کا یہاں ہونا ضروری ہے۔دنیا میں عزت پیسوں سے نہیں ہوا کرتی۔روپے ملنے سے آدمی بڑا نہیں بن جایا کرتا اور کوئی آدمی نہ تو اعلیٰ بھڑکدار لباس پہننے سے یا بیش قیمت زیورات پہن لینے سے قدر پاتا ہے بلکہ سچی تعلیم انسان کے اندر وقار پیدا کرتی ہے۔قابلِ عزت وہی ہوتا ہے جو تعلیم یافتہ ہو۔رگری ہوئی قوموں میں اچھے کپڑوں کا بے شک لحاظ کیا جاتا ہے مگر اصل نیک لوگوں میں ایسا نہیں ہوتا۔حضرت شیخ سعدی کا قصہ آتا ہے کہ ایک امیرانہ دعوت میں اُن کی عزت نہ ہوئی کیونکہ وہ