انوارالعلوم (جلد 13) — Page 18
انوار العلوم جلد ۳ ۱۸ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ دنیا میں سچا مذ ہب صرف اسلام ہی ہے تیرہ سو سال قبل عرب کی حالت کہا جاتا ہے کہ عرب آج سے تیرہ نو سال پہلے نہایت تاریک اور جہالت سے بھرا ہوا تھا۔نہ اس کا کوئی تمدن تھا نہ اس کی کوئی تہذیب تھی ، نہ وہ علوم کے ترقی دینے میں دنیا کی کوئی مدد کر رہا تھا بلکہ دوسروں کے دریافت کردہ علوم کے سیکھنے کی طرف بھی وہ توجہ نہیں کرتا جب کہ دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ انسانی فطرت پر غور کر کے اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ انسان فطرتا شہری زندگی سے مناسبت رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ شہروں اور گاؤں میں اپنا ٹھکانہ بنا رہے تھے وہ ابھی سوائے شاذ و نادر کے وحشت کی زندگی اور جنگل کی رہائش کو اپنے لئے پسند کرتا تھا اور ایک جگہ ٹک کر رہنا اسے مصیبت معلوم ہوتا تھا۔سوائے سخاوت اور مہمان نوازی کے کوئی قانونِ اخلاق اس کے چال چلن کا نگران نہ تھا۔اس وحشیانہ زندگی کی وجہ سے انسانی زندگی اس کی نگاہ میں کوئی قدر و قیمت نہ رکھتی تھی۔انسان کی موت اس کی نگاہ میں ایک روز مرہ کی تبدیلی تھی جس کے پیدا کرنے کیلئے وہ بار ہا خود شوق سے سعی کرتا تھا اور اس کا تماشا دیکھتا تھا۔انسانی زندگی وہ ایک حباب کی طرح سمجھتا تھا کہ جس کا ظاہر ہونا اور فنا ہونا ایک دلچسپ نظارہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا اور وہ کوئی وجہ نہیں دیکھتا تھا کہ قانونِ قدرت پر غور کر کے اور اس کی مخفی ڈائنامک (DYNAMIC) طاقتوں کو معلوم کر کے وہ اس نظارہ کو زیادہ دیر پا بنانے کی کوشش کرے بلکہ تعجب نہیں کہ وہ اپنے دل کے بار یک گوشوں میں ایسی ہر ایک سعی کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہو۔موت اس کے خیالات کو صرف ان دو باتوں کی طرف پھیرتی تھی۔مرنے والے کے لئے لمبا سوگ کیا جائے اور جو شخص مارا جائے اس کے قاتلوں سے عبرتناک بدلہ لیا جائے۔مگر یہ سوگ یا انتقام اس لئے نہیں ہوتا تھا کہ وہ انسانی زندگی کو قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھتا تھا بلکہ صرف اس