انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 16

۱۶ انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف سے مستغنی ہوتا ہے بلکہ وہ الفاظ میں اظہار درد اپنی ہتک سمجھتا ہے۔عشق غیر محدود ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ابدی زندگی کیلئے پیدا کیا تا کہ وہ غیر محدود عشق کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا غیر محدود قرب حاصل کرے اور ابدیت کی زندگی پائے۔خدا کرے یہ چیز آپ لوگوں میں پیدا ہو جائے۔اگر یہ عشق آپ اپنے دل میں پیدا کر لیں گے تو دنیا کی کوئی چیز آپ کی کامیابی میں روک نہیں ہو سکے گی اور آخر ایک دن تمام دنیا آپ کے قدموں میں گر جائے گی۔(الفضل ۸۔جنوری ۱۹۳۳ء) تذکرہ صفحہ ۲۱۔ایڈیشن چہارم امتی باب ۱۳ آیت ۵۷ الشورى: ۱۲ بخاری کتاب الادب باب رحمة الولدو تقبيله ومعانقته ترمذی ابواب الزهد باب ماجاء في الصبر على البلاء سیرۃ ابن ہشام الجزء الثانی صفحه ۲۵ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ (مفہوم)) فتح البارى الجزء الرابع صفحہ ۷۰ مطبع خیر یہ ۳۱۹ھ بخارى كتاب الجهاد باب من ينكب اويطعن في سبيل البقرة: ٩٨ الله غزل الغزلات باب ۵ آیت ۱۶ صفحہ ۶۵۳ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور ایڈیشن ۱۹۲۲ء نپولین : شہنشاہ فرانس ( ۱۷۶۹ء۔۱۸۲ء) وینڈیمیئر (Vendemiaire) کی بغاوت (۱۷۹۵ء) میں اس کے زبردست اقدام نے اسے وقت کی اہم ترین شخصیت بنا دیا۔اطالوی مہم کے قائد کی حیثیت سے اس نے پست ہمت، فاقہ زدہ سپاہیوں کو ایک نا قابل تسخیر فوج بنادیا۔مسلسل، بروقت اقدامات سے نپولین نے افراطِ زر کا تدارک کیا۔کلیسیا سے صلح کی۔ایک نیا آئینی ضابطہ وضع کیا۔۱۸۰۴ء میں اس نے شہنشاہ فرانس اور ۱۸۰۵ء میں شاہ اٹلی ہونے کا اعلان کیا۔۱۲۔اپریل ۱۸۱۴ء کو نپولین تخت سے دست بردار ہوا۔(اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۷۰۸ء مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء)