انوارالعلوم (جلد 13) — Page 150
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۵۰ رحمة للعالمين گناہ سے انسان بچ نہیں سکتا لیکن امید کا پیغام کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔اگر خدا کے لئے عادل ہونا ضروری ہے تو اس کا بیٹا بھی ضرور عادل ہوگا اور اگر گناہ گار کے گناہ کو معاف کرنا عدل کے خلاف ہے تو بے گناہ کو سزا دینا بھی تو عدل کے خلاف ہے۔پھر کس طرح ہوا کہ خدا کے بیٹے نے دوسروں کے گناہ اپنے سر پر لے لئے اور خدا نے اس بے گناہ کو پکڑ کر سزا دے دی ؟ پھر انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی کہ موت کو تو گناہ کی سزا بتایا گیا تھا جب گناہ نہ رہا تو موت کیونکر رہ گئی ؟ گناہ کے معاف ہونے پر موت بھی تو موقوف ہونی چاہئے تھی۔پھر بعض لوگوں نے کہا کہ ہم سے تو اب بھی گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔اگر ورثہ کا گناہ دور ہو گیا تھا تو گناہ ہم سے باوجود بچنے کی کوشش کے کیوں ہو جاتا ؟ جب بعض دوسروں نے ان کو دلیری سے یہ کہتے ہوئے سنا تو انہوں نے کہا کہ ہم سے بھی اور ہم سے بھی ؟ پھر میں نے عالم خیال میں دیکھا کہ ان لوگوں نے کہا کہ خدا نے ہم کو کیوں پیدا کیا ؟ انسانیت جو اس قدر اعلیٰ تھے سمجھی جاتی تھی کیسی نا پاک ہے؟ کس طرح گناہ سے اس کا بیج پڑا اور گناہ میں اس نے پرورش پائی اور گناہ ہی اس کی خوارک بنی اور گناہ ہی اس کا اوڑھنا اور بچھونا ہوا۔ایسی نا پاک شے کو وجود میں لانے کا مقصد کیا تھا ؟ یہ جنت کیا شے ہے؟ اور کس کے لئے ہے؟ کیونکہ ہم کو تو مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور دوزخ کے سوا کسی ٹھے کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔وہ انہیں فکروں میں تھے کہ پھر وہی شیریں اور مست کر دینے والی آواز جو کئی بار پہلے دنیا کے عقدے حل کر چکی تھی بلند ہوئی پھر اس آواز کی صداؤں سے پر کیف نغمے پیدا ہو کر دنیا پر چھا گئے۔پھر ہر شخص گوش بآواز ہو گیا۔پھر ہر دل رجاء وامید کے جذبات سے دھڑ کنے لگا وہ آواز بلند ہوئی اور اس نے دنیا کو اس بارہ میں طویل پیغام دیا جس کے مطلب اور مفہوم کو میں اپنے الفاظ میں اور اپنی تمثیلات سے ادا کرتا ہوں۔اس نے کہا جو کسی کے دل میں ناامیدی پیدا کرتا ہے وہ اس کے ہلاک کرنے کا ذمہ دار ہے۔" ایمان کی کیفیت خوف وامید کی چار دیواری کے اندر ہی پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بھی تب جب امید کا پہلو خوف پر غالب ہو۔پس جو امید کو دور کرتا ہے وہ گناہ کو مٹا تا نہیں بڑھاتا ہے اور خطرہ کو کم نہیں زیادہ کرتا ہے۔آدم نے بیشک خطا کی لیکن وہ ایک بھول تھی۔۱۳ دیدہ دانستہ گناہ نہ تھا۔لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ باپ جو کچھ کرے بیٹے کو اس کا ورثہ ملے۔اگر یہ ہوتا تو جاہل ماں باپ کے لڑکے ہمیشہ جاہل رہتے اور عالموں کے عالم۔مسلول ماں باپ کے بچے ہمیشہ مسلول نہیں ہوتے۔نہ کوڑھیوں کے بچے ہمیشہ کوڑھی ہوتے ہیں۔