انوارالعلوم (جلد 13) — Page 101
انوار العلوم جلد ۱۳ 1+1 میری ساره ہے جو ٹو نے اپنے پیارے رسول کو دی تھی اور یقیناً اس لئے دی تھی کہ تیرے بندے اس سے فائدہ اُٹھائیں۔سواے پیارے! میں تیرے منشاء کو پورا کرتے ہوئے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ دلوں کے بھید جاننے والے آقا ، پوشیدہ رازوں سے آگاہ آقا، نیتوں کی باریکیوں سے واقف آقا ، اگر تیرے علم میں یہ ہے کہ میں نے اور سارہ بیگم نے تیرے ہی لئے ، تیری ہی رضا کی خاطر، تیرے ہی دین کی تقویت کیلئے سارہ بیگم کی پڑھائی کا کام شروع کیا تھا اور اس میں دنیا کی عزت یا نفع یا کوئی دنیوی غرض پوشیدہ نہ تھی ، تو اے رب ! میں بھی ان غار میں پھنسے ہوئے لوگوں کی طرح غم والم کے غار میں سے جس کے سب دروازے بند نظر آتے ہیں تجھے پکارتا ہوں، تیرے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوا درخواست کرتا ہوں کہ اے اَرحَمُ الرَّاحِمِينَ! اے بندے کے تھوڑے عمل کو قبول کرنے والے! اے نیتوں کا بدلہ دینے والے رب ! جس کے دروازے سے کوئی سوالی واپس نہیں جاتا تو اس فعل کے بدلہ میں جب کہ تیرے لئے سارہ بیگم نے اپنی عمر سے کوئی فائدہ بظاہر نہیں اُٹھایا تو اُن کو اگلے جہان میں اعلیٰ مقامات عطا فرما، اپنے قرب میں جگہ دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہو کی حیثیت سے انہیں قبول کر اور اپنے خُسر کے پاس اعلی علیین میں جگہ دے کہ تیرے فضلوں سے یہ بات کچھ بعید نہیں اور تیری شان کے یہ بالکل شایان ہے۔امِينَ اللهُمَّ آمِينَ اور اے میرے پیارے! یہ مت خیال کر کہ جب میں اپنے بندے کی دعا سنتا ہوں تو وہ اور دلیر ہو جاتا ہے کیونکہ تو دینے کیلئے اور ہم مانگنے کیلئے اور تیری یہ سنت ہے کہ جب تو ایک فضل کرتا ہے تو تیری رحمت جوش میں آکر اسے اکیلا نہیں رہنے دیا کرتی تو اسے ضرور جوڑا بنا تا ہے کیونکہ وحدت صرف تیری ذات کو حاصل ہے باقی سب چیزوں کو تو نے جوڑا بنایا ہے پس میں تیری توحید سے ملتجی ہوں ، تیری اس قدیم سنت سے درخواست کرتا ہوں کہ جو کبھی رحمت کے عمل کو اکیلا نہیں رہنے دیتی کہ جب تو سارہ بیگم پر رحم فرمائے تو اے میرے پیارے! ایک دیر سے جُدا شدہ میری پیاری بیوی ، میرے پیارے اُستاد کی لاڈلی بیٹی ، میرے عزیز بچوں کی ماں بھی اس کے ساتھ ہی لیٹی ہوئی تیرے فضلوں کی امیدوار ہے تو اُس پر بھی فضل کر اور اُسے بھی اپنی خاص برکتوں سے حصہ دے اور اعلیٰ ترقیات کا وارث کر جو اس دنیا میں باہم سوت تھیں اُس جہان میں بہنیں ہو کر رہیں کہ تیری جنت میں کینہ اور بغض کا گزر ہیں۔امِيْنَ اللَّهُمَّ امِينَ اے پیارے! زبان رکتی ہے اور قلم اٹکتا ہے مگر تجھ سے نہ مانگوں تو کس سے مانگوں۔تجھ