انوارالعلوم (جلد 13) — Page 93
۹۳ انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره جان ) اور میری چھوٹی ہمشیرہ کو ملوانے برادرم نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر لے گئیں ، اس سے رہی سہی طاقت زائل ہو گئی ، طبیعت پر اس قدر بوجھ تھا کہ کوٹھی سے چلتے ہوئے میری ہمشیرہ کو گلے لگا کر ملیں اور کہا کہ آئیں آخری دفعہ کیلئے گلے تو مل لیں۔انہوں نے منع کیا کہ ایسی باتیں کیوں کرتی ہو تو کہا کہ میری حالت ایسی ہے کہ شاید اب کے جانبر نہ ہوسکوں گی۔بعض لوگوں سے ہماری واپسی کے متعلق دریافت کیا کہ وہ کب آئیں گے جب کسی نے کہا کہ جلد ہی آجائیں گے تو کہا کہ خیر ملاقات تو ہو جائے گی۔یہ سب طبیعت کی کمزوری کا مظاہرہ تھا۔گھر پہنچیں تو دردزہ شروع ہوگئی اور خون آنے لگا۔ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے ساری رات جاگ کر کائی اور علاج کا کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا ہاں دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ کے معاملہ میں اُن سے کوتاہی ہوئی اسی طرح دوسرے ذمہ دار کارکنوں سے یہ غلطی ہوئی کہ مجھے مناسب طریق پر اور جلد جلد اطلاع نہ دی۔انہیں یہ احساس تھا کہ مجھے بیمار چھوڑ کر چلے گئے ہیں حالانکہ واقعہ یہ تھا کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تھا کہ کیسی حالت ہے اور انہوں نے تسلی دلائی تھی کہ قوت بہت کافی ہے اور کوئی خطرہ نہیں۔مگر خیر انہیں یہ احساس تھا اور اب کہ واقعات نے انہی کی تصدیق کی ہے ان کے احساس کو حق بجانب کہنا پڑتا ہے خیر اس احساس کے ماتحت جب تک انہیں یہ خیال نہیں ہوا کہ بیماری سخت ہے وہ مجھے اطلاع دینے سے خود روکتی رہیں اور کہتی رہیں انہیں تار نہ دو انہیں تکلیف ہوگی۔جہاں تک میرا خیال ہے اُس وقت اُن کا یہ کہنا میری تکلیف کے خیال سے نہ تھا بلکہ ایک شکوہ کا رنگ تھا۔جب طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو نہایت درد سے بار بار لوگوں سے کہا کہ حضرت صاحب کو اور میرے ابا کو تار دو لیکن افسوس کہ پاس کے لوگوں کو ایسا ذھول ہوا کہ کسی نے تار نہ دی یہاں تک کہ اُن کا وقت قریب آ گیا۔آخری وقت کے قریب میری تصویر جوان کے کمرہ میں لٹک رہی تھی اُس کی طرف دیکھا، ایک آہ بھری اور سر کو اس طرح جنبش دی جس طرح کہتے ہیں کہ لو اب ہم جاتے ہیں اور کہا کہ اب میری آنکھوں کے آگے بھی اندھیرا آ گیا ہے،اب میرا آخری وقت ہے ڈاکٹر صاحب کو بلایا گیا جو پاس ہی دوسرے کمرے میں بیٹھے تھے ایک دومنٹ میں وہ آگئے مگر اتنے میں وہ بے ہوش ہو چکی تھیں اور چند ہی منٹ بعد انہوں نے اپنے پیدا کرنے والے کو جان سپرد کر دی اور اسی شعر کے مطابق جو انہوں نے قادیان آنے سے پہلے لکھا تھا۔حضرت مسیح موعود کے قدموں میں خاک ہو کر جاپڑیں۔بر آستان آنکه ز خود رفت بهر یار