انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 7

انوار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف اختیار کئے ہوئے ہو تو وہ دُکھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور ایسی ہر تکلیف تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی اور اُس کے فضلوں کا وارث بناتی ہے اور اس سے زیادہ نعمت اور کوئی نہیں ہوسکتی۔میں نے دیکھا ہے کہ آج کچھ لوگ جھنڈے پکڑے یہاں بیٹھے ہیں۔مجھے یہ جھنڈے دیکھ کر ایک واقعہ یاد آ گیا۔جھنڈا علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کو اونچا رکھیں گے۔بظاہر یہ معمولی بات نظر آتی ہے مگر اسلام میں جھنڈے کو جو اہمیت دی گئی ہے وہ معمولی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ میں اُس کو جھنڈا دوں گا جو اس کا حق ادا کرے گا۔چنانچہ ایک دفعہ ایک صحابی نے کہا میں اس کا حق ادا کروں گا آپ نے اُسے جھنڈا دے دیا۔چونکہ جھنڈے والا شخص نشاندار قرار دیا جاتا تھا اور اس امر کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا کہ یہ اس کو اونچا ر کھے اس لئے دشمن اس پر خصوصیت سے حملہ کرتا۔جب لڑائی ہوئی اور کفار مقابلہ کرتے ہوئے اس صحابی کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے تلوار سے اس کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا جس میں وہ جھنڈا تھامے ہوئے تھے انہوں نے فوراً بائیں ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا اور جب دشمنوں نے تلوار سے اسے بھی کاٹ ڈالا تو پھر لاتوں کے درمیان اسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔آخر دشمنوں نے پاؤں بھی کاٹ ڈالے اور جب انہوں نے دیکھا کہ اب پاؤں بھی جاتے رہے تو انہوں نے منہ سے جھنڈا پکڑ لیا اور جب اس جگہ بھی دشمن نے تلوار میں مارنی شروع کیں اور وہ موت کے قریب پہنچ گئے تو آخری الفاظ ان کے یہ تھے کہ دیکھنا اسلام کا جھنڈا نیچا نہ ہو۔دوسرے صحابہ بڑھے اور انہوں نے اس جھنڈے کو تھام لیا۔کے تو جھنڈا علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ ہم دین کو اونچا رکھیں گے لیکن اگر لوگ جھنڈے تو بنا ئیں مگر دین کو اونچا نہ کرسکیں تو ان ظاہری جھنڈوں کو اونچا کرنے سے کیا فائدہ۔اگر دین کا جھنڈا ہی بلند نہ رہا تو ان کپڑے یا لکڑی کے جھنڈوں کو اگر ہم نے اونچا بھی کیا تو اس سے کیا حاصل۔بھلا کونسی ذلیل سے ذلیل قوم ہے جو لکڑی پر کپڑا نہیں باندھ سکتی۔یہ تو علامت ہے اس بات کی کہ جب کوئی قوم جھنڈا اونچا کرتی ہے تو اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ وہ دین کو بھی اونچا ر کھے گی۔پس اگر آپ لوگوں نے یہ جھنڈے بنائے ہیں تو ان کا احترام کریں اور اس بات کا عہد کریں کہ دین کو اونچا رکھیں گے اور سلسلہ احمدیہ کو پھیلانے میں ہر قسم کی تکلیف اور مصیبت برداشت کرنے کیلئے تیار رہیں گے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ جب تک مجھے علم ہوتا ہے کہ فلاں شخص کو دین کی وجہ سے تکلیف پہنچ رہی ہے مجھے اُس کیلئے دعا کرنے کا جوش ہوتا ہے مگر جب وہ مجھے لکھتا ہے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ