انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 492

انوار العلوم جلد ۱۳ 492 ہے۔کیا شریعت کی رو سے قادیان کے باہر مباہلہ ہو نہیں سکتا یا کیا نعوذ باللہ من ذالک اللہ تعالیٰ کی قادیان میں حکومت سے اور باہر اس کی حکومت نہیں ہے۔ہمارے لئے تو ایک وجہ موجود ہے کہ حکومت نے احرار کو قادیان میں کا نفرنس سے روکا ہوا ہے مگر وہ مباہلہ کے بہانہ سے اپنا اجتماع کر کے حکومت کے حکم کو رد کرنا چاہتے ہیں۔دوسرے قادیان مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اور ان سے اتر کر ہمارا مقدس مقام ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ایک جوش کے موقعہ پر وہاں لوگ جمع ہوں اور فساد کی کوئی صورت پیدا ہو مگر احرار کو قادیان میں مباہلہ کر نیکی کوئی وجہ نہیں۔اور اگر یہاں مباہلہ کر نیکی کوئی غرض ہو بھی تو مباہلہ والوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کو جمع کرنے کی کوئی وجہ نہیں اور ان کا اصرار کرنا کہ یا تو ہم مباہلہ قادیان میں کریں گے ورنہ نہیں کریں گے ایک ایسی بات ہے جس کی نسبت ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ وہ بالکل غیر ضروری اور ۳۴۷ نا معقول ہے۔اب میں مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کے اس جواب کو لیتا ہوں جو انہوں نے حکومت کو بھجوایا اور اخبارات میں شائع کرایا ہے۔آپ اس میں لکھتے ہیں۔”آپ کی چٹھی نمبر ایس۔ایس۔بی مورخہ ۲۔جولائی ۱۹۳۵ء کو ( متن میں ) گورنمنٹ کا جو فیصلہ درج کیا گیا تھا اس کے مطابق مجوزہ سالانہ تبلیغ کا نفرنس ترک کر دی گئی تھی۔مرزا محمود احمد نے اس پر مجلس احرار کو چیلنج دینا شروع کر دیا کہ وہ مباہلہ کے لئے رضا مند ہے۔اور انہوں نے مجلس کے لیڈروں کو اپنے معتقدوں کے ہمراہ قادیان آنے اور ان کا مہمان بننے کے لئے اخبار الفضل مطبوعہ ۶۔اکتوبر ۱۹۳۵ ء میں دعوت دی تھی۔اس لئے مجلس کو مجبوراً یہ چیلنج قبول کرنا پڑا۔“ ( نبدے ماترم ۲۰ نومبر ۱۹۳۵ء) اس چٹھی سے مسٹر مظہر علی صاحب نے چیف سیکرٹری صاحب گورنمنٹ پنجاب پر اور اس کو شائع کر کے عوام الناس پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ (1) احرار نے چونکہ قادیان میں کانفرنس ملتوی کر دی تھی، اس وجہ سے امام جماعت احمدیہ نے انہیں چیلنج دینا شروع کر دیا۔یعنی ان کی اس مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں لوگوں میں ذلیل کرنا چاہا۔(۲) احرار قادیان آنے کا ارادہ ترک کر چکے تھے مگر چونکہ امام جماعت احمدیہ نے انہیں قادیان آنے کا چیلنج دیا، وہ اس چیلنج کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئے۔اللہ تعالیٰ احرار پر رحم کرے