انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 471

471 انوار العلوم جلد ۱۳ جماعت احمدیہ کے متعلق پنجاب کے بعض افسروں کا رویہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ جماعت احمدیہ کے متعلق پنجاب کے بعض افسروں کا قابل مذمت رویه ( بعض مؤقر اخبارات کے نمائندوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں حاضر ہوکر جماعت احمدیہ کے خلاف احرار کی معاندانہ سرگرمیوں اور حکومت کے رویہ کے متعلق اظہارِ خیالات کی درخواست کی۔اس پر حضور نے ایک بیان دیا۔اسے جس رنگ میں مرتب کر کے نمائندگان پریس نے بعض انگریزی اور اُردو اخبارات میں شائع کرایا ہے۔وہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔) احرار کا مدعا متعدد واقعات ایسے ہوئے ہیں جن سے احرار کامد عا و مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم احمدی امن شکنی کریں۔بعض مقامی افسروں کی بھی یہی خواہش معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہم نے ان کے سامنے جو شکایات پیش کیں ان پر انہوں نے عملی طور پر کوئی کارروائی نہ کی۔۲۹۔مارچ کی شب کو احراریوں نے ایک احمدی محمد اسمعیل صدیقی پر حملہ کیا ، پہلے اس کی دُکان میں پھر ایک گلی میں۔پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی اسی شب کو دفعہ ۱۴۴ جو جنوری سے نافذ العمل تھی ختم ہوتی تھی۔حملہ آوروں کا مقصد یہ معلوم ہوتا تھا کہ احمدی مغلوب الغضب ہو کر امن شکنی کے مرتکب ہوں اور اس طرح دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کو حق بجانب ٹھہرایا جا سکے لیکن احمدی بالکل پُر امن رہے اور قانون شکن لوگوں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوئی۔