انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 438

438 انوار العلوم جلد ۱۳ بُرا نہ کہتا ہو مگر ان کو نبی بھی نہ مانتا ہو۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: میرا یہ عقیدہ ہے کہ چونکہ حضرت مرزا صاحب خدا کے بھیجے ہوئے رسول اور قرآن کی پیشگوئیوں کے مطابق آئے ہیں اس لئے یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص سمجھ کر خدا تعالیٰ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان رکھتا ہو اور پھر حضرت مرزا صاحب پر ایمان نہ لائے۔جو شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتا، قرآن کریم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر غور نہیں کرتا اور ان تینوں امور کے باوجود حضرت مرزا صاحب کی باتوں کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔اگر کسی شخص میں وہ ساری شرائط پائی جاتی ہیں جو اسلام میں مسلمان ہونے کیلئے ضروری ہیں تو وہ مسلمان ہے ورنہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانے، قرآن کریم کے ماننے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا سمجھنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود مسلمان نہیں ہوگا۔حضرت مرزا صاحب کو نبی نہ ماننے والوں میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو مسلمان ہوں اور ایسے بھی جو کافر ہوں۔میں اس شخص کو مسلمان سمجھتا ہوں جو یہ یقین رکھتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے الہامات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔گو یہ کہے کہ میں ان کی تحریروں میں جو نبی کا لفظ آیا ہے اس کے معنی حقیقی نبی نہیں کرتا۔نبی کے سوا دوسروں کا ہر الہام قطعی اور کامل نہیں ہوسکتا۔قادیان میں جو احرار کا نفرنس ہوئی، اس کا مقصد احمدی عقائد کے خلاف تبلیغ کرنا نہیں ہو سکتا تھا۔اگر یہ غرض ہوتی تو حکومت احمدیوں کو وہاں جانے سے نہ روکتی۔میرے نزدیک اس کا صرف احمدیت کے خلاف تبلیغ کرنا مقصد نہیں تھا۔قادیان میں غیر احمدی بھی ہیں۔احرار کا نفرنس میں جو تقریریں ہوئیں۔وہ میں نے کانفرنس کے بعد اخبار احسان“ اور ”زمیندار“ میں پڑھیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے سید عطاء اللہ شاہ صاحب کی تقریر کے خلاف گورنمنٹ سے سلسلہ جنبانی نہیں کی کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔احمدی اخباروں نے تقریروں کے خلاف پروٹسٹ کیا مگر گورنمنٹ کو کوئی خط نہیں لکھا گیا۔میں اپنی جماعت میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو حرامی نہیں کہتا۔اس بناء پر حضرت