انوارالعلوم (جلد 13) — Page 405
405 انوار العلوم جلد ۱۳۔حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات جانے کی وجہ سے دوسری ماؤں کے سپرد کئے گئے اور جب ان کی ماں کو بُرا بھلا کہا گیا، وہ آپس میں لپٹ کر رونے لگ گئے۔قرآن کریم میں نبی کو مومنوں کا باپ قرار دیا گیا ہے "۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوئے ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور ہم اس وجہ سے اپنے آپ کو یتیم سمجھتے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فوت ہو چکے ہیں۔آج لوگ اُن کو بُرا بھلا کہتے ہیں مگر ہم بے بس ہیں۔اس لئے نہیں کہ ہم میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ان سے بہت زیادہ طاقت ہے جو ہمیں دُکھ دے رہے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہی ہمارے ہاتھ باندھ گیا ہے جس کے خلاف بد زبانی کر کے ہمیں دُکھ دیا جا رہا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ باندھ دیئے ہیں پس ہم بے بس ہیں۔اگر اس وقت ہم ایک دوسرے سے نہیں چمٹ جاتے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا باپ سمجھتے ہیں اور آپ کے خلاف بدزبانی کرنے والوں سے ہمیں صدمہ پہنچ رہا ہے۔جب میری بیوی امتہ الحی مرحومہ فوت ہوئیں تو بڑی لڑکی سات آٹھ سال کی تھی اور چھوٹی پانچ چھ سال کی۔ماں کے فوت ہونے پر بڑی لڑکی مجھے چمٹ کر رونے لگی اور کہنے لگی امتہ الرشید خلیل کو جو اُن کا چھوٹا بھائی ہے، اب کون پالے گا۔اُس وقت وہ ساری لڑائیاں بُھول گئی اور اپنے سے سب سے قریب چیز وہی بہن نظر آئی جس سے لڑتی رہتی تھی۔پس میں کس طرح مان لوں کہ ہم اپنے آپ کو یتیم محسوس کرتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا باپ سمجھتے ہیں جب کہ ہم ایک دوسرے کو گلے سے پکڑنے کیلئے تیار ہوں۔تمام احمد یوں کو میری یہ نصیحت ہے کہ جاؤ اور اپنے دوسرے بھائیوں کے گلے سے لیٹے رہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچ جاؤ۔مسجد اقصیٰ میں جب میں نے اعلان کیا کہ آپس کی ناراضیاں دُور کر دو اور بنیان مرصوص بن کر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ تو قادیان کے احمدیوں نے کہا ہم ایسا ہی کرنے کیلئے تیار ہیں اور باہر کے احمدیوں نے لکھا کہ کاش ! ہم بھی اُس وقت موجود ہوتے۔آج باہر کے ہزاروں احمدی یہاں موجود ہیں میں ان سے کہتا ہوں کہ میں نے انہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا۔تم اس وقت ایک یتیم قوم ہو تم پر مصائب پر مصائب آئیں گے اور تمہیں بھائیوں کی طرح رہنا ہوگا جاؤ اپنے ان بھائیوں کے گلے مل جاؤ جن سے تمہیں کسی قسم کی ناراضگی اور رنج ہے جاؤ اور ان سے مل جاؤ۔کیا میں نے تمہیں خدا کا یہ پیغام پہنچا دیا۔( اس پر تمام مجمع نے متفق اللسان ہو کر کہا۔ہاں حضور نے پیغام پہنچا دیا)