انوارالعلوم (جلد 13) — Page 362
362 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد حاصل ہوئی اور ثابت ہو گیا کہ جس نکتہ تک آپ کا دماغ پہنچا دوسروں کا نہیں پہنچا۔دنیا نے آپ کا مقابلہ کیا اور شکست کھائی، آپ نے دنیا کے چیلنج کو قبول کیا اور فتح حاصل کی۔تیسرا ذریعہ انسانی کامیابی کا محرک صحیح کا میسر آنا ہے۔بانی سلسلہ کے دعویٰ کے وقت محرک کے بارہ میں بھی آپ میں اور دوسرے علماء میں اختلاف ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کے سامنے حقیقت پیش کی کہ انسانی زندگی کا نقطہ مرکزی محبت الہی ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندہ کا تعلق محبت کا ہے تو سزا تابع ہے انعام اور بخشش کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتدا بھی رحمت سے کی جاتی ہے اور انتہاء بھی رحمت سے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہر بندہ کو عبودیت اور بخشش کیلئے پیدا کیا ہے اور ہر بندہ کو یہ چیز نصیب ہو کر رہے گی۔یہ جذبہ محبت پیدا کر کے آپ نے اپنی جماعت کے دلوں میں عمل کا یہ محرک پیدا کر دیا کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہم پر اس قد راحسانات ہیں تو ہمیں بھی اس کے جواب میں بطور اظہارِ شکر یہ اس مقصود کو پورا کرنا چاہئے جس کے لئے اُس نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔اس محبت الہی کے جذبہ نے انہیں تمام انعامات اور تمام دیگر خواہشات سے مستغنی کر دیا ہے۔وہ عہدوں اور جزاء کے امیدوار نہیں۔وہ سب ماضی کو دیکھتے ہیں اور آئندہ کیلئے خدا تعالیٰ سے سودا نہیں کرنا چاہئے۔اس محرک کے متعلق بھی علماء نے اختلاف کیا وہ محبت کے جذبہ کو کچلنے میں لطف محسوس کرتے تھے۔انہیں اس امر کا شوق تھا کہ دنیا کے سب بزرگوں کو جن کا نام قرآن کریم میں مذکور نہیں جھوٹا اور فریبی کہیں، انہیں شوق تھا کہ وہ اپنے اور یہود کے باپ دادوں کے سوا سب کو جہنم میں دھکیل دیں، وہ اس امر میں مسرت حاصل کرتے تھے کہ ایک دفعہ جہنم میں دھکیل کر وہ پھر کسی کو باہر نہیں نکلنے دیں گئے انہیں محبت الہی کے لفظ پر اعتراض نہ تھا لیکن وہ محبت پیدا کرنے کے سب ذرائع کو مٹا دینا چاہتے تھے وہ خدا تعالیٰ کو ایک بھیانک شکل میں پیش کر کے کہتے تھے کہ ہمارا یہ خدا ہے، اب جو چاہے اس سے محبت کرے مگر کون اس خدا سے محبت کر سکتا تھا، نتیجہ یہ تھا کہ مسلمانوں کیلئے محرک حقیقی کوئی باقی نہ رہا تھا۔چند وقتی سیاسی ضرورتیں، چند عارضی قومی جھگڑے انہیں کبھی عمل کی طرف مائل کر دیں تو کر دیں لیکن مستقل آگ ہمیشہ رہنے والی جلن انہیں نصیب نہ تھی۔مگر مرزا صاحب علیہ السلام نے باوجود کفر کے فتووں کے اس بات کا اعلان کیا کہ سب قوموں میں نبی گزرے ہیں، راستباز ظاہر ہوئے ہیں اور جس طرح موسیٰ علیہ السلام اور مسیح علیہ السلام خدا کے برگزیدہ تھے کرشن، رامچند ر، بدھ ، زردشت بھی خدا کے برگزیدہ تھے۔اُس نے ہمیشہ محبت اور بخشش کا ہاتھ لوگوں کی طرف بڑھایا ہے اور آئندہ بڑھا تا