انوارالعلوم (جلد 13) — Page 266
۲۶۶ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے گھلا رہنا چاہئے انوار العلوم جلد ۳ اس کے بعد میں اختصار کے ساتھ دوستوں کو مسجد بنانے کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔آج جلسہ بھی ہے سفر کی وجہ سے مجھے کوفت بھی ہے اس لئے کوئی لمبی تقریر نہیں کر سکتا۔چار پانچ دن سے تو مجھے اس قدر تکلیف تھی کہ پہلی دفعہ کل ہی جمعہ کے لئے باہر آیا رات بھی سخت تکلیف رہی اور تمام رات جاگتے کئی صبح ڈاکٹری مشورہ یہی تھا کہ میں سفر کو ملتوی کر دوں مگر میں نے کہا طبیعت تو بیشک یہی کہتی ہے مگر وہ سینکڑوں لوگ جو مختلف علاقوں سے آئے ہوں گئے ان کو نظرانداز کر دینا میرے نز دیک گناہ ہے۔پس میں اختصار سے کام لوں گا۔مساجد اپنے ساتھ بعض ذمہ داریاں رھتی ہیں۔مسجد خدا کا گھر ہے اور جو شخص مسجد بنانے کے بعد یہ کہتا ہے کہ اسے ہم نے بنایا اور یہ ہماری ہے وہ گویا خدا کے گھر کو اپنا گھر قرار دیتا ہے۔دنیا میں اگر کوئی شخص کسی معمولی آدمی کے گھر کو بھی کہے کہ یہ میرا ہے تو وہ مجرم سمجھا جاتا ہے اس سے اندازہ کر لو کہ جو شخص خدا کے نام پر ایک گھر بنائے اور پھر اسے اپنا قرار دئے وہ کتنی بڑی سزا کا مستحق ہوگا۔پس لائل پور کا ہر احمدی فرد یہی سمجھے کہ یہ خدا کا گھر ہے اگر یہ خدا کا گھر نہیں ہے تو مسجد نہیں ہو سکتی اور اگر خدا کا گھر ہے تو آج سے آپ لوگوں میں سے کوئی شخص ایک ساعت کے لئے بھی یہ خیال نہ کرے کہ یہ ان کی ہے۔جس وقت میں نے دو رکعتیں پڑھ کر اس کا افتتاح کیا، اس کے بعد کسی کو اب یہ حق نہیں کہ اسے اپنی قرار دے اور کسی کو اس میں عبادت کرنے سے رو کے حتی کہ اگر کوئی شخص ایک ہند و یا عیسائی کو بھی روکے گا تو وہ خدا کا فوجداری مجرم ہو گا، کیونکہ وہ خدا کے گھر کو اپنا گھر قرار دے گا۔دوسرے لوگ مساجد بناتے ہیں مگر باہر بورڈ لگا دیتے ہیں کہ یہاں کوئی شیعہ احمدی، وہابی نہ آئے مگر وہ دھوکا خوردہ ہیں۔وہ خدا کے نام پر مسجد بناتے ہیں مگر پھر اس پر اپنا قبضہ کر لیتے ہیں۔تم بھی اگر ایسا ہی کرو گے تو خدا کے فضل کو حاصل نہیں کر سکو گے۔تمہارا بورڈ یہی ہونا چاہیئے کہ یہ خدا کا گھر ہے، جس کا جی چاہے یہاں آ کر اس کا نام لے سکتا ہے۔خواہ وہ کسی رنگ میں عبادت کرے، ہم خوش ہونگے۔رسول کریم ﷺ کے پاس عیسائیوں کا ایک وفد آیا اور کچھ مذہبی مباحثہ کیا اتنے میں ان کی عبادت کا وقت آگیا۔عیسائیوں میں بعض مشرک ہوتے ہیں اور بعض موحد بھی۔گو وہ بعض مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح کی تعظیم ارباب کی حد تک کرتے ہیں۔مگر پھر بھی خدا کو ایک مانتے ہیں اس وفد کے عیسائی بت پرست تھے اور انہوں نے سونے کی صلیبیں اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔انہوں نے رسول کریم ﷺ سے کہا کہ ہم باہر