انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 255

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۵۵ احمدیت کے اصول فتوے لگائے گئے کہ یہ کافروں کو مسلمان بناتا ہے۔حالانکہ یہ کتنی عظیم الشان صداقت تھی قرآن کریم اور اسلام کی۔جسے حقیقی کمال حاصل ہو وہ کسی سے ڈر نہیں سکتا وہ جانتا ہے کہ میرا کمال خود میری برتری کا ثبوت ہے مگر جو کمزور ہو وہ ڈرتا ہے اور چاہتا ہے کہ میرے مقابل کوئی اور نہ ہو جس سے میں شکست کھا جاؤں۔پس قرآن نے دوسروں کی صداقت تسلیم کر کے اپنی صداقت ظاہر کی اور اپنا کمال ثابت کیا۔چھوٹی سی صداقت رکھنے والا ڈرتا ہے کہ مجھ سے بڑی صداقت معلوم ہونے پر لوگ مجھے قبول نہیں کریں گے لیکن قرآن کریم کو اس کا کوئی اندیشہ نہیں۔وہ جانتا ہے کہ دوسری صداقتوں کا لوگ جتنا زیادہ مطالعہ کریں گئے اتنا ہی وہ میرے کمال کا اعتراف کریں گے۔ایک چھوٹی سی ٹارچ رکھنے والا گھبراتا ہے کہ جگنو بھی آ جائے تو میرے ٹارچ کی روشنی مشتبہ ہو جائے گی لیکن سورج کی سی روشنی رکھنے والا لیمپوں سے کب ڈرتا ہے۔پس قرآن کا کمال یہ تھا کہ وہ تسلیم کرے کہ انجیل، توریت ویڈ سب خدا کی طرف سے تھے اور حضرت عیسی، حضرت موسیٰ ، حضرت کرشن سب اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔یہ ایک ایسی صداقت ہے جس سے حضرت مرزا صاحب نے قرآن کی طرف لوگوں کی حقیقی توجہ منعطف کی۔اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ توریت انجیل وغیرہ کتب جھوٹی ہیں تو وہ انہیں مطالعہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھے گا اور نہ اس طرف متوجہ ہوگا کہ دیگر مذاہب کا مطالعہ کرے۔وہ یہی خیال کرے گا کہ میں شیطانی کلام کیوں پڑھوں اور اس طرح ان کے مقابلہ میں قرآن کی عظمت کا احساس بھی اس کے اندر پیدا نہ ہو سکے گا لیکن جب وہ ان کتب کو الہی کلام سمجھے گا تو گو انہیں قابل عمل نہ سمجھے، پھر بھی محبوب کا کلام سمجھ کر ان کا مطالعہ ضرور کرے گا کیونکہ محبوب کا لباس خواہ پرانا ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اسے دیکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اگر کوئی بوسیدہ جامہ مل جائے تو کیا کوئی مسلمان ایسا ہو گا جو محض اس کے بوسیدہ ہونے کی وجہ سے اس سے اپنی آنکھوں کو منور کرنے کی کوشس نہ کرے۔اسی طرح جب ایک انسان کو یہ یقین ہوگا کہ پرانی کتب بھی دراصل خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہیں اور ایک زمانہ کیلئے وہ ہدایت کا موجب تھیں تو وہ انہیں بھی پڑھنے اور مطالعہ کرنے کی کوشش کرے گا کہ پہلی کتابوں سے زیادہ چیز اس میں سے تلاش کرے اور اس طرح وہ قرآن کے مخفی خزانے نکالے گا۔جب تک دوسری کتابوں کا حسن اس نے نہیں دیکھا تھا، وہ قرآن کی چھوٹی خوبیوں سے تسلی پاسکتا تھا لیکن جب ان کو دیکھے گا تو قرآن کے بڑے معارف معلوم کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کی مثال ایسی ہوگی جیسے ایک شخص جو کسی گاؤں کا رہنے والا ہو اس کے حسن کا معیار معمولی ہوگا۔لیکن جو