انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 217

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۱۷ اہم اور ضروری امور حیرت ہوئی کہ ایک غیر احمدی اخبار نے لکھا۔ایک مباحثہ میں میں سے زیادہ مولوی مقابلہ پر تھے مگر وہ مولوی صاحب سے کانپتے تھے اور ڈرتے تھے۔جاوا اور سماٹرا کے علاوہ اور جزائر میں بھی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔امریکہ میں تبلیغ کا جو کام ہو رہا ہے اس کی تفصیل میں بیان نہیں کرتا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب خود دیکھ آئے ہیں اور انہوں نے اس کے متعلق تقریر بھی کی ہے۔وہ اس کام سے بہت ہی متاثر ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ صوفی مطیع الرحمان صاحب کو اسلامی لٹریچر اور اسلامی مسائل کے متعلق یہ درجہ حاصل ہے کہ اسلامی لٹریچر کے بڑے بڑے ماہر ان کے سامنے کوئی بات پیش کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ صوفی صاحب اسے غلط نہ قرار دے دیں۔انگلستان میں اس سال مبلغین کی تبدیلی ہوئی ہے اس وجہ سے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کام کو سنبھال رہے ہیں۔میں نے انہیں اب کے ہدایت کی تھی کہ علمی طبقہ میں کام کریں اس کیلئے وہ کوشش کر رہے ہیں۔چنانچہ پادریوں کے ایک کلب میں انہوں نے تقریر کی جس کا اچھا اثر ہوا۔امید ہے کہ وہاں بھی علمی طبقہ پر احمدی مبلغین کا سکہ بیٹھ جائے گا۔مولوی اللہ دتا صاحب شام اور مصر میں اچھا کام کر رہے ہیں وہاں احمدیت کی شدید مخالفت ہو رہی ہے بعض احمد یوں کو پیٹا بھی گیا ہے، حکومت بھی خلاف ہے، حیفا میں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہے جس کے بہت سے افراد مولوی جلال الدین صاحب شمس کے وقت کے ہیں مگر مولوی اللہ دتا صاحب کام کو خوب پھیلا رہے ہیں۔افریقہ کے مبلغ حکیم فضل الرحمن صاحب بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں، وہاں بیس ہزار کی جماعت قائم ہو چکی ہے احمدیوں کے چھ سکول ہیں، وہاں کے احمدیوں میں سے ہی کئی ایک بطور مبلغ کا م کرتے ہیں۔پس افریقہ کی جماعتیں اور ان کے مبلغ ، مصر اور شام کی جماعتیں اور ان کے مبلغ ، انگلستان کی جماعتیں اور ان کے مبلغ ، امریکہ کی جماعتیں اور ان کے مبلغ ، جاوا اور سماٹرا کی جماعتیں اور ان کے مبلغ ، اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لئے دعائیں کی جائیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کاموں کے اور زیادہ عظیم الشان نتائج پیدا کرے۔انہیں اپنی رضا حاصل کرنے کے مواقع عطا کرے۔ان کے شامل حال اپنی تائید و نصرت کرے اور انہیں اپنی حفاظت میں رکھے۔پنجاب میں بھی جماعت ترقی کر رہی ہے اور سرحد کی جماعت بیدار ہو رہی ہے۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری بہت حد تک ملازمت سے فارغ ہو چکے ہیں گلی طور پر شاید ابھی تک