انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 20

انوار العلوم جلد ۱۳ دنیا میں سچاند ہب صرف اسلام ہی ہے اس کا دعوی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے اور جس طرح یہ ضروری ہے کہ جو تعلیم اور خیالات گردو پیش کے حالات کے مطابق قدرتی طور پر پیدا ہوں وہ ان حالات کے مناسب اور مطابق ہوں اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس تعلیم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عام قانونِ قدرت کے علاوہ خاص ضروریات انسانی کو مدنظر رکھ کر بھیجا جائے ، وہ نہایت تاریک حصہ دنیا میں نازل کی جائے کیونکہ بصورت دیگر یہ بات کیونکر معلوم ہو گی کہ وہ تعلیم حالات گرد و پیش کا ایک قدرتی نتیجہ ہے یا رب العلمین خدا کا ایک خاص عطیہ۔اسلام کا یہ دعویٰ محض دعویٰ ہی نہیں بلکہ وہ اس کے لئے اپنے پاس روشن ثبوت رکھتا ہے۔اسلام اور علمی تحقیقا تیں یہ ثبوت جو اسلام پیش کرتا ہے متفرق قسم کے ہیں جن میں سے ایک ثبوت جسے میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اس کی تعلیم اُس وقت کے گرد و پیش کے حالات کے ماتحت مسئلہ ارتقاء کے مطابق ظاہر نہیں ہوتی بلکہ عرب تو علیحدہ رہا، اُس وقت کی دوسری علمی قوموں کے خیالات سے بھی بہت بالا ہے اور ایسے علوم پر حاوی ہے جو اس زمانہ کے لوگوں کی نظروں سے بالکل مخفی تھے اور سینکڑوں سال کی تحقیق و تدقیق کے بعد جا کر دنیا انہیں دریافت کر سکی ہے اور ایسے امور بھی ہیں جن تک دنیا با وجود اپنے ارتقاء کے اب تک بھی نہیں پہنچ سکی۔ان کی ہدایت صرف اسلام ہی کرتا ہے اور اسلام سے باہر ان کا نشان نہیں ملتا۔یہ حکمتیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے سینکڑوں اور ہزاروں ہیں جن کا ایک مختصر مضمون میں گننا ایک محال امر ہے مگر پھر بھی مثال کے طور پر میں چند ایک امور کو اس مضمون کے ناظرین کی آگاہی کیلئے سلسلہ وار بیان کروں گا تا انہیں ایک مختصر سا علم ہو جائے اور اسلام کی خوبیوں کے متعلق مزید تجسس کی خواہش پیدا ہو۔ایک حکیمانہ جملہ اس مضمون میں جو اس سلسلہ کا پہلا نمبر ہے۔میں اس حکمت کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔یعنی لِكُلّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتِ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک مرض کا علاج بلا استثناء اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مگر باوجود اس کے انسان موت سے نہیں بچ سکتا۔بیماریاں دور کی جاسکتی ہیں مگر موت کو ٹلایا نہیں جا سکتا۔انسان آخر مرتا ہے اور ضرور مرتا ہے آئندہ مرے گا اور ضرور مرے گا۔یہ کلام ہے جو بانی اسلام کے منہ پر آج سے تیرہ سو سال پہلے جاری ہوا اور ان لوگوں کے