انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 156

انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين بزرگوں کو ہمارے آقا سے مشابہت دی۔میری حیرت جودوسری اقوام کے رویہ سے پہلے ہی ترقی پر تھی اور بھی بڑھ گئی اور میں تعجب و حیرت سے دوسری قوموں کی طرف متوجہ ہوا۔میں نے یہود کو مخاطب کیا اور ان سے ان کے بزرگوں کے حالات دریافت کئے۔انہوں نے ایک لمبا سلسلہ بزرگوں کا پیش کیا، انہوں نے دنیا کی ابتدا آدم سے بیان کی اور نوح کے طوفان اور ان کی فتوحات کا ذکر کیا، پھر ابراہیم اور اس کی کامیابیوں اور اسحق اور یعقوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون اور داؤد اور یسعیاہ اور عزرا اور ان کے علاوہ بیسیوں اور بزرگوں کے کارناموں کا ذکر کیا۔انہوں نے خصوصیت سے موسیٰ کا ذکر کیا کہ وہ بہت بڑے نبی تھے اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں شریعت تکمیل کو پہنچی اور انہوں نے کہا کہ ان کی شریعت کے احکام ایسے کامل ہیں کہ جب تک زمین و آسمان قائم ہیں کو ئی شخص ان کا ایک شعشہ بھی مٹا نہیں سکتا۔میں نے دیکھا اس سلسلہ میں ابراہیم اور موسیٰ اور داؤد خاص شان کے انسان تھے ابراہیم کے حالات تو ایسے تھے کہ دل محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہو جاتا تھا اور موسیٰ کی قومی تربیت کی جد وجہد اور اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بچہ کی سی سادگی کے ساتھ ایسار جوع ایسا دلکش نظارہ تھا کہ وہاں سے ملنے کو دل نہ چاہتا تھا مگر داؤد کا عشق بھی کچھ کم ولولہ انگیز نہ تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ داؤد کے ہر ذرہ میں محبت کی بجلی سرایت کر گئی تھی اور ان کی آواز کی ہر لہر میں موسیقی کی روح ناچتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ان کے دردانگیز نوحے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کی گہرائیوں کا پتہ دیتے تھے بلکہ ان کے عشقیہ گیتوں میں ایک ایسے معشوق کی محبت کا بھی اظہار تھا جو ا بھی دنیا میں پیدا نہ ہوا تھا مگر اہل بصیرت لوگوں کو اس کی انتظار تھی اور وہ اپنی روحانی آنکھوں سے ہی دیکھ کر اس کے عاشق ہو رہے تھے۔مجھے موسیٰ کی باتوں میں بھی یہ جھلک نظر آئی مگر وہاں ایک فلسفی بولتا ہوا مجھے دکھائی دیا اور داؤد کے نغموں میں عشق کا ترنم اور محبت کا سوز پایا جاتا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا، داؤد نے ایک ہی وقت میں سورج چاند کو دیکھا۔کبھی ایک کے جلال کو دیکھتے اور کبھی دوسرے کے جلال کو۔وہ ایک کی قوت عائسہ پر عش عش کرتے تو دوسرے کی قوت منعکسہ پر۔میری روح یہود کے بزرگوں کے حالات معلوم کر کے بے حد مسرور ہوئی اور میں نے خیال کیا یہاں سے مجھے میری بے چینی کا علاج ملے گا اور میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کا خیال ہندوؤں اور بدھوں اور زرشتیوں کے بزرگوں کے متعلق کیا ہے؟ میری حیرت کی حد نہ رہی جب انہوں نے بھی مجھے یہ جواب دیا کہ آپ ان لوگوں کے دھوکا میں نہ آئیں، وہ سب گمراہ لوگ تھے۔الہام تو صرف عبرانی میں ہو